حب احمد ازل ہی سے سینے میں ہے میں یہاں ہوا مرادل مدینے میں ہے عطر جنت میں بھی ایسی خو شبو نہیں جیسی خوشبو نبی کے پسینے میں ہے اس ليے ہے اسی سمت کعبہ جھکا گھر خدا کا محمد کے سینے میں ہے پھول تو پھول کانٹوں میں بھی حسن ہے لطف جنت سے بڑھ کر مدینے میں ہے کیا مقدر ہے بوبکر و فاروق کا جن کا گھر رحمتوں کے خزینے میں ہے بے سہارا نہ سمجھے زمانہ مجھے میرے آقا کا مسکن مدینے میں ہے موت لائی حیات اب نئی زندگی یہ مزہ میرے مرمر کے جینے میں ہے
دیدار حق دکھائے گی اے بیبیو نماز جنت تمہیں دلائے گی اے بیبیو نماز دربار مصطفی میں تمہیں لیکے جائے گی خالق سے بخشوائے گی اے بیبیو نماز عزت کے ساتھ نوری لباس اچھے زیورات سب کچھ تمہیں پہنائے گی اے بیبیو نماز جنت میں نرم نرم بچھونوں کے تخت پر آرام سے سلائے گی اے بیبیو نماز خدمت تمہاری حوریں کریں گی ادب کیساتھ رتبہ بہت بڑھائے گی اے بیبیو نماز کوثر کے سلسبیل کے شربت پلائے گی میوے تمہیں کھلائے گی اے بیبیو نماز سب عطر وپھول ہوں گے نچھاور پسینے پر خوشبو میں جب بسائے گی اے بیبیو نماز