یہ محبوب سرور یہ مقبول داور
ابوبکر و فاروق و عثمان و حیدر
یہ پروانے ہیں شمع باغ حرا کے فدائے نبی اور مقرب خدا کے
نمونے ہیں یہ سیرت انبیاء کے یہ پتلے وفا کے یہ پیکر حیا کے
یہ عدل مجسم یہ صدق مصور
ابوبکر و فاروق و عثمان و حیدر
یہ معراج ایماں کے ہیں چار زینے یہ چاروں ہیں تاج شرف کے نگینے
مجلّٰی ہیں انوار سے ان کے سینے سنوارا ہے ان کو جمال نبی نے
مزکیّٰ مصفّا مقدّس مطہّر
ابوبکر و فاروق و عثمان و حیدر
الہٰی تڑپتی ہے جب تک رگ جاں محبت رہے ان کے سینے میں رقصاں
ولا ان کی ہے جان دیں روح ایماں خدا سے دعا ہے یہی میری ہر آں
رہے تا دم مرگ میری زباں پر
ابوبکر و فاروق و عثمان و حیدر