شب معراج عجب نور ہے سبحان اللہ پتا پتا شجر طور ہے سبحان اللہ اک قدم فرش پر ہے ایک قدم عرش پر ہے ان کو نزدیک ہے جو دور ہے سبحان اللہ غیب کیا چیز ہے دیکھ آئے ہیں وہ غیب الغیب یعنی وہ ذات جو مشہور ہے سبحان اللہ دیکھ آئے ہیں وہ آیات خدائے برتر یہی قرآن میں مسطور ہے سبحان اللہ مرحبا کہتا ہے کوئی تو کوئی صلّ علیٰ نغمہ سنجی میں لب حور ہے سبحان اللہ ربّ ھَب لی یہ کہا رب نے کہ اے میرے حبیب تم کو منظور تو منظور ہے سبحان اللہ اے شفاعت کے دھنی تیری شفاعت سن کر شادماں ہر دل رنجور ہے سبحان اللہ پالیا ان کو تو کونین کو پایا سیّد یعنی جھولی مری بھر پور ہے سبحان اللہ