Brailvi Books

جنتی زیور
654 - 676
آباد اسے فرما ویراں ہے دل نوری			جلوے ترے بس جائیں آباد ہو ویرانہ
از حضرت محدّث اعظم قبلہ کچھوچھوی علیہ الرحمۃ
شب معراج عجب نور ہے سبحان اللہ			پتا پتا شجر طور ہے سبحان اللہ

اک قدم فرش پر ہے ایک قدم عرش پر ہے		ان کو نزدیک ہے جو دور ہے سبحان اللہ

غیب کیا چیز ہے دیکھ آئے ہیں وہ غیب الغیب		یعنی وہ ذات جو مشہور ہے سبحان اللہ

دیکھ آئے ہیں وہ آیات خدائے برتر			یہی قرآن میں مسطور ہے سبحان اللہ 

مرحبا کہتا ہے کوئی تو کوئی صلّ علیٰ			نغمہ سنجی میں لب حور ہے سبحان اللہ

ربّ ھَب لی یہ کہا رب نے کہ اے میرے حبیب		تم کو منظور تو منظور ہے سبحان اللہ

اے شفاعت کے دھنی تیری شفاعت سن کر		شادماں ہر دل رنجور ہے سبحان اللہ

پالیا ان کو تو کونین کو پایا سیّد			یعنی جھولی مری بھر پور ہے سبحان اللہ
Flag Counter