| جنتی زیور |
تیرے انسانیت پہ ہیں بے شک لاکھوں احسان یارسول اللہ کعبۂ دل نہ کیوں ہوں عرش مقام تم ہو مہمان یارسول اللہ کردو پورے نسیم کے دل کے سارے ارمان یارسول اللہ
از حضرت مفتی اعظم صاحب قبلہ بریلوی مدظلہ
تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ تو ماہ نبوت ہے اے جلوہ جانانہ جوساقیئ کو ثر کے چہرے سے نقاب اٹھے ہر دل بنے مے خانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ دل اپنا چمک اٹھے ایمان کی طلعت سے کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوۂ جانانہ میں شاہ نشیں ٹوٹے دل کو نہ کہوں کیسے ہے ٹوٹا ہوا دل ہی سرکار کا کاشانہ کیوں زلف معنبر سے کوچے نہ مہک اُٹھیں ہے پنجۂ قدرت جب زلفوں کا تری شانہ ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری بلبل ہے ترا بلبل پروانہ ہے پروانہ اس در کی حضوری ہی عصیاں کی دوا ٹھہری ہے زہر معاصی کا طیبہ ہی دواخانہ