Brailvi Books

جنتی زیور
653 - 676
تیرے انسانیت پہ ہیں بے شک 	لاکھوں احسان یارسول اللہ

کعبۂ دل نہ کیوں ہوں عرش مقام	تم ہو مہمان یارسول اللہ

کردو پورے نسیم کے دل کے		سارے ارمان یارسول اللہ
از حضرت مفتی اعظم صاحب قبلہ بریلوی مدظلہ
تو شمع رسالت ہے عالم تیرا پروانہ 			تو ماہ نبوت ہے اے جلوہ جانانہ

جوساقیئ کو ثر کے چہرے سے نقاب اٹھے		ہر دل بنے مے خانہ ہر آنکھ ہو پیمانہ

دل اپنا چمک اٹھے ایمان کی طلعت سے 			کر آنکھیں بھی نورانی اے جلوۂ جانانہ

میں شاہ نشیں ٹوٹے دل کو نہ کہوں کیسے			ہے ٹوٹا ہوا دل ہی سرکار کا کاشانہ

کیوں زلف معنبر سے کوچے نہ مہک اُٹھیں		ہے پنجۂ قدرت جب زلفوں کا تری شانہ

ہر پھول میں بو تیری ہر شمع میں ضو تیری		بلبل ہے ترا بلبل پروانہ ہے پروانہ

اس در کی حضوری ہی عصیاں کی دوا ٹھہری		ہے زہر معاصی کا طیبہ ہی دواخانہ
Flag Counter