Brailvi Books

جنتی زیور
646 - 676
وہ نخلستان مکہ وہ مدینہ کی گزرگاہیں 			کہیں نور نبی ہوگا کہیں نور خدا ہوگا

یلملم ہی سے شورش ہوگی دل کی بیقراری میں 		پہن کر جامۂ احرام زائر جھومتا ہوگا

نہ پوچھو عاشقوں کا ولولہ جدہ کے ساحل پر 		لبوں پر نغمہ اِنْ نِلْتِ یَا رِیْحَ الصَّبَا ہوگا

جھکی ہوگی مری گردن گناہوں کی خجالت سے 		زباں پر یا رسول اللہ اُنْظُرْحَالَنَا ہوگا 

کچھ اونٹوں کی قطاروں میں انوکھی سادگی ہوگی		حدی خوانوں سے طیبہ کا بیاباں گونجتا ہوگا

کبھی کوہ مفرح سے نظارے ہونگے گنبد کے		کبھی بیر علی پر عاشقوں کا جھمگھٹا ہوگا

شفیق اس دن نہ پوچھو درد الفت کی فراوانی		کہ ہم ہوں گے حجاز پاک کا دار الشفا ہوگا
دیگر
نہیں تیرے سوا کوئی پیامی			اِلَیْہِ یَاصَبَا بَلِّغْ سَلَامِیْ

وہ سوجائیں تو معراج منامی 			وہ جاگیں تو خدا سے ہم کلامی

ہے شاہوں کو بھی وجۂ نیک نامی		شہِ خوباں ترے در کی غلامی

ہر اک شیدا ہے سلطان عرب کا		عراقی ہو کہ رومی ہو کہ شامی
Flag Counter