وہ نخلستان مکہ وہ مدینہ کی گزرگاہیں کہیں نور نبی ہوگا کہیں نور خدا ہوگا
یلملم ہی سے شورش ہوگی دل کی بیقراری میں پہن کر جامۂ احرام زائر جھومتا ہوگا
نہ پوچھو عاشقوں کا ولولہ جدہ کے ساحل پر لبوں پر نغمہ اِنْ نِلْتِ یَا رِیْحَ الصَّبَا ہوگا
جھکی ہوگی مری گردن گناہوں کی خجالت سے زباں پر یا رسول اللہ اُنْظُرْحَالَنَا ہوگا
کچھ اونٹوں کی قطاروں میں انوکھی سادگی ہوگی حدی خوانوں سے طیبہ کا بیاباں گونجتا ہوگا
کبھی کوہ مفرح سے نظارے ہونگے گنبد کے کبھی بیر علی پر عاشقوں کا جھمگھٹا ہوگا
شفیق اس دن نہ پوچھو درد الفت کی فراوانی کہ ہم ہوں گے حجاز پاک کا دار الشفا ہوگا