| جنتی زیور |
نظر آتی ہے گلشن میں ہوا نا ساز گار اپنی گل باغ خلیلی بھیج دے بادبہار اپنی اٹھ اے امت کے والی کفر دھمکاتا ہے مسلم کو علی کو بھیج دے آجائیں لے کر ذوالفقار اپنی طریق مصطفی کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی ہمیں کرنی ہے شاہنشاہ بطحا کی رضا جوئی وہ اپنے ہوگئے تو رحمت پروردگار اپنی بنے گی گرمیئ خورشید خنکی باغ جنت کی وہ جس دم لے کے آئیں گے نسیم خوشگوار اپنی وہ بیٹھے ہوں اٹھا ہو بارگاہ پاک کا پردہ کہانی در پہ کہتا ہوں شفیق جاں نثار اپنی
دیگر
اجالی رات ہوگی اور میدان قبا ہوگا زبان شوق پر یا مصطفی یا مصطفی ہوگا کہ اترے ہونگے رحمت کے فرشتے آسمانوں سے خدا کا نور ہوگا روضۂ خیر الورٰی ہوگا