Brailvi Books

جنتی زیور
645 - 676
از حضرت شفیق جونپوری علیہ الرحمۃ
نظر آتی ہے گلشن میں ہوا نا ساز گار اپنی		گل باغ خلیلی بھیج دے بادبہار اپنی

اٹھ اے امت کے والی کفر دھمکاتا ہے مسلم کو	علی کو بھیج دے آجائیں لے کر ذوالفقار اپنی

طریق مصطفی کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی		اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی

ہمیں کرنی ہے شاہنشاہ بطحا کی رضا جوئی		وہ اپنے ہوگئے تو رحمت پروردگار اپنی

بنے گی گرمیئ خورشید خنکی باغ جنت کی		وہ جس دم لے کے آئیں گے نسیم خوشگوار اپنی

وہ بیٹھے ہوں اٹھا ہو بارگاہ پاک کا پردہ		کہانی در پہ کہتا ہوں شفیق جاں نثار اپنی
دیگر
اجالی رات ہوگی اور میدان قبا ہوگا			زبان شوق پر یا مصطفی یا مصطفی ہوگا

کہ اترے ہونگے رحمت کے فرشتے آسمانوں سے 		خدا کا نور ہوگا روضۂ خیر الورٰی ہوگا
Flag Counter