Brailvi Books

جنتی زیور
644 - 676
نہ چھانی مشت خاک اپنی کسی نے 		ہے دل ہی میں رہ کوئے محمد

دل صد چاک میں مانند شانہ			رچی ہے بوئے گیسوئے محمد

دم جاں بخش اعجازمسیحا			نسیم گلشن کوئے محمد

حیات جاوداں پاتا ہے آسی			قتیل تیغ ابروئے محمد
          دیگر
نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر			کرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پر

تمہارے حسن کی تصویر کوئی کیاکھینچے			نظرٹھہرتی نہیں عارض منور پر

کسی نے لی رہ کعبہ کوئی گیاسوئے دیر		پڑے رہے تیرے بندے مگر تیرے درپر

گناہ گار ہوں میں واعظو تمہیں کیافکر			مرا معاملہ چھوڑو شفیع محشر پر

پلادے کہ آج تو مرتے ہیں رنداے ساقی		ضرور کیا کہ یہ جلسہ ہو حوض کوثر پر

اخیر وقت ہے آسی چلو مدینے کو			نثار ہو کے مرو تربت پیمبر پر
Flag Counter