| جنتی زیور |
نہ چھانی مشت خاک اپنی کسی نے ہے دل ہی میں رہ کوئے محمد دل صد چاک میں مانند شانہ رچی ہے بوئے گیسوئے محمد دم جاں بخش اعجازمسیحا نسیم گلشن کوئے محمد حیات جاوداں پاتا ہے آسی قتیل تیغ ابروئے محمد
دیگر
نہ میرے دل نہ جگر پر نہ دیدۂ تر پر کرم کرے وہ نشان قدم تو پتھر پر تمہارے حسن کی تصویر کوئی کیاکھینچے نظرٹھہرتی نہیں عارض منور پر کسی نے لی رہ کعبہ کوئی گیاسوئے دیر پڑے رہے تیرے بندے مگر تیرے درپر گناہ گار ہوں میں واعظو تمہیں کیافکر مرا معاملہ چھوڑو شفیع محشر پر پلادے کہ آج تو مرتے ہیں رنداے ساقی ضرور کیا کہ یہ جلسہ ہو حوض کوثر پر اخیر وقت ہے آسی چلو مدینے کو نثار ہو کے مرو تربت پیمبر پر