| جنتی زیور |
میں پیام زندگی سمجھوں اگر یوں موت آئے آپ کا در ہو مرا سررحمۃ للعالمیں ہم سیہ کاروں کی بخشش کا کوئی ساماں نہیں نازہے تیرے کرم پررحمۃ للعالمیں بس خداان کو نہ کہنا اور جو چاہو کہو سب سے بالا سب سے بہتررحمۃ للعالمیں دست اقدس سینے پر ہوروح کھنچتی ہومری لب پہ جاری ہوبرابررحمۃ للعالمیں سایۂ عرش الہٰی میں کھڑا کرنا مجھے ہیں سیہ عصیاں سے دفتررحمۃ للعالمیں
آئینہ منفعل ترے جلوے کے سامنے ساجد ہیں مہ ومہر ترے تلوے کے سامنے جاری ہے حکم یہ کہ دوپارہ قمر ہوا انگشت مصطفی کے اشارے کے سامنے کیوں دربدر فقیر تمہارا کرے سوال جب تم ہوبھیک مانگنے والے کے سامنے جنت تو کھینچتی ہے کہ میری طرف چلو ایمان لے چلا ہے مدینے کے سامنے