Brailvi Books

جنتی زیور
642 - 676
میں پیام زندگی سمجھوں اگر یوں موت آئے		آپ کا در ہو مرا سررحمۃ للعالمیں

ہم سیہ کاروں کی بخشش کا کوئی ساماں نہیں		نازہے تیرے کرم پررحمۃ للعالمیں

بس خداان کو نہ کہنا اور جو چاہو کہو			سب سے بالا سب سے بہتررحمۃ للعالمیں

دست اقدس سینے پر ہوروح کھنچتی ہومری		لب پہ جاری ہوبرابررحمۃ للعالمیں

سایۂ عرش الہٰی میں کھڑا کرنا مجھے			ہیں سیہ عصیاں سے دفتررحمۃ للعالمیں
آئینہ منفعل ترے جلوے کے سامنے			ساجد ہیں مہ ومہر ترے تلوے کے سامنے

جاری ہے حکم یہ کہ دوپارہ قمر ہوا			انگشت مصطفی کے اشارے کے سامنے

کیوں دربدر فقیر تمہارا کرے سوال			جب تم ہوبھیک مانگنے والے کے سامنے

جنت تو کھینچتی ہے کہ میری طرف چلو			ایمان لے چلا ہے مدینے کے سامنے
Flag Counter