بے وارثوں کے وارث بے والیوں کے والی تسکین جان مضطر تم پر سلام ہر دم
للہ اب ہماری فریاد کو پہنچئے بے حد ہے حال ابتر تم پر سلام ہر دم
دریوزہ گر ہوں میں بھی ادنٰی سااس گلی کا لطف وکرم ہو مجھ پر تم پر سلام ہر دم
کوئی نہیں ہے میرامیں کس سے داد چاہوں سلطان بندہ پرور تم پر سلام ہر دم
بہر خدا بچاؤ ان خار ہائے غم سے اک دل ہے لاکھ نشتر تم پر سلام ہر دم
میرے مولیٰ میرے سرور رحمۃ للعالمیں میرے آقامیرے رہبر رحمۃ للعالمیں
مظہر ذات خدامحبوب رب دوسرا بادشاہ ہفت کشوررحمۃ للعالمیں
عالم علم لدنی آپ کو حق نے کیا حال سب روشن ہیں تم پررحمۃ للعالمیں
تونے فرمایا ہُوَالْمُعْطِیْ وَاِنِّی قَاسِم کیوں نہ مانگوں تیرے در پررحمۃ للعالمیں