Brailvi Books

جنتی زیور
641 - 676
بے وارثوں کے وارث بے والیوں کے والی		تسکین جان مضطر تم پر سلام ہر دم

للہ اب ہماری فریاد کو پہنچئے				بے حد ہے حال ابتر تم پر سلام ہر دم

دریوزہ گر ہوں میں بھی ادنٰی سااس گلی کا			لطف وکرم ہو مجھ پر تم پر سلام ہر دم

کوئی نہیں ہے میرامیں کس سے داد چاہوں		سلطان بندہ پرور تم پر سلام ہر دم

بہر خدا بچاؤ ان خار ہائے غم سے			اک دل ہے لاکھ نشتر تم پر سلام ہر دم

میرے مولیٰ میرے سرور رحمۃ للعالمیں		میرے آقامیرے رہبر رحمۃ للعالمیں

مظہر ذات خدامحبوب رب دوسرا			بادشاہ ہفت کشوررحمۃ للعالمیں

عالم علم لدنی آپ کو حق نے کیا			حال سب روشن ہیں تم پررحمۃ للعالمیں

تونے فرمایا ہُوَالْمُعْطِیْ وَاِنِّی قَاسِم 			کیوں نہ مانگوں تیرے در پررحمۃ للعالمیں