Brailvi Books

جنتی زیور
635 - 676
سایہ افگن سرپہ ہو پرچم الٰہی جھوم کر			جب لواء الحمد لے امت کا والی ہاتھ میں 

دستگیر ہر دو عالم کر دیا سبطین کو			اے میں قرباں جان جاں انگشت کیالی ہاتھ میں 

آہ وہ عالم کہ آنکھیں بند اور لب پر درود			وقف سنگ درجبیں روضہ کی جالی ہاتھ میں 

حشر میں کیاکیا مزے وارفتگی کے لوں رضا		لوٹ جاؤں پاکے وہ دامان عالی ہاتھ میں
وہ کمال حسن حضور ہے کہ گمان نقص جہاں نہیں	     		یہی پھول خارسے دورہے یہی شمع ہے کہ دھواں نہیں

میں نثارتیرے کلام پرملی یوں تو کس کوزباں نہیں	     	وہ سخن ہے جس میں سخن نہ ہووہ بیاں ہے جس کا بیاں نہیں

بخداخدا کایہی ہے درنہیں اورکوئی مفر مقر			     جو وہاں سے ہویہیں آکے ہو جویہاں نہیں توو ہاں نہیں

دوجہاں کی بہتریاں نہیں کہ امانیئ دل وجاں نہیں     		کہو کیاہے وہ جویہاں نہیں مگراک نہیں کہ وہ ہاں نہیں

وہی نورحق وہی ظل رب ہے انہیں سے سب ہے انہیں کاسب  نہیں 	ان کی ملک میں آسماں کہ زمیں نہیں کہ زماں نہیں
Flag Counter