Brailvi Books

جنتی زیور
634 - 676
سر تا بہ قد م ہے تن سلطان زمن پھول		لب پھول دہن پھول ذقن پھول بدن پھول 

واللہ جو مل جائے مرے گل کا پسینہ		مانگے نہ کبھی عطر نہ پھر چاہے دلہن پھول

تنکا بھی ہمارے تو ہلائے نہیں ہلتا		تم چاہو تو ہو جائے ابھی کوہ محن پھول

دل اپنا بھی شیدائی ہے اس ناخن پا کا		اتنا بھی مہ نو پہ نہ اے چرخ کہن پھول

دل بستہ وخوں گشتہ نہ خوشبونہ لطافت		کیوں غنچہ کہوں ہے مرے آقا کادہن پھول

کیا بات رضا اس چمنستان کرم کی 		زہرا ہے کلی جس میں حسین اور حسن پھول
ہے لب عیسیٰ سے جاں بخشی نرالی ہاتھ میں 		سنگریزے پاتے ہیں شیریں مقالی ہاتھ میں 

ابر نیساں مومنوں پر تیغ عریاں کفر پر			جمع ہیں شان جلالی وجمالی ہاتھ میں 

مالک کونین ہیں گو پاس کچھ رکھتے نہیں			دوجہاں کی نعمتیں ہيں ان کے خالی ہاتھ میں
Flag Counter