| جنتی زیور |
ابن مریم کی بشارت روح پیغام کلیم بانی کعبہ کی تاریخی دعا میرے رسول منصب شان رسالت لقب ختم الرسل منزل محبوبیت میں مصطفی میرے رسول جنکے قدموں سے ہے وابستہ دوعالم کی نجات وہ امیر کارواں وہ حق نما میرے رسول اعظمی مومن ہوں ربُّ العٰلمیں میراخدا رحمۃ للعٰلمیں صلّ علی میرے رسول
نگار طیبہ ازل سے ہے تیری آرزو میرے وجود کا مقصد ہے جستجو تیری ترا سکوت ہے لطف وکرم کی اک دنیا نسیم خلد کی جنت ہے گفتگو تیری نسیم خلد نے مانگی ہے بھیک خوشبو کی کھلی مدینہ میں جب زلف مشکبو تیری میری وفات کادن میری عید کا دن ہو بوقت مرگ جو صورت ہو روبرو تیری گناہ کرکے بھی امید وار جنت ہوں سناہے جب سے کہ لطف و کرم ہے خو تیری کہاں نہیں رخ انور کی جلوہ سامانی جہاں میں طلعت زیباسے چار سوتیری حریم کعبہ میں بھی یاد آئی طیبہ کی کہ یادگارحرم میں ہے کوبکو تیری نہ چھوٹے دامن عبدیت اعظمی ان کا اسی سے دونوں جہاں میں ہے آبرو تیری
یہ حالت ہے اب سانس لینا گراں ہے مگر آپ کا نام ورد زباں ہے کوئی جانے کیا اس کا پرچم کہاں ہے سرعرش جس کے قدم کا نشاں ہے وہ فانوس فطرت ہیں دونوں جہاں میں انہیں کی تجلی یہاں ہے وہاں ہے یہ سارا جہاں ان کے زیر قدم ہے کہ پامال ان کا مکاں لامکاں ہے