Brailvi Books

جنتی زیور
629 - 676
ابن مریم کی بشارت روح پیغام کلیم		بانی کعبہ کی تاریخی دعا میرے رسول

منصب شان رسالت لقب ختم الرسل		منزل محبوبیت میں مصطفی میرے رسول

جنکے قدموں سے ہے وابستہ دوعالم کی نجات	وہ امیر کارواں وہ حق نما میرے رسول

اعظمی مومن ہوں ربُّ العٰلمیں میراخدا	رحمۃ للعٰلمیں صلّ علی میرے رسول
نگار طیبہ ازل سے ہے تیری آرزو		میرے وجود کا مقصد ہے جستجو تیری

ترا سکوت ہے لطف وکرم کی اک دنیا		نسیم خلد کی جنت ہے گفتگو تیری

نسیم خلد نے مانگی ہے بھیک خوشبو کی		کھلی مدینہ میں جب زلف مشکبو تیری

میری وفات کادن میری عید کا دن ہو		بوقت مرگ جو صورت ہو روبرو تیری

گناہ کرکے بھی امید وار جنت ہوں		سناہے جب سے کہ لطف و کرم ہے خو تیری

کہاں نہیں رخ انور کی جلوہ سامانی 		جہاں میں طلعت زیباسے چار سوتیری

حریم کعبہ میں بھی یاد آئی طیبہ کی 		کہ یادگارحرم میں ہے کوبکو تیری

نہ چھوٹے دامن عبدیت اعظمی ان کا 		اسی سے دونوں جہاں میں ہے آبرو تیری
یہ حالت ہے اب سانس لینا گراں ہے		مگر آپ کا نام ورد زباں ہے

کوئی جانے کیا اس کا پرچم کہاں ہے		سرعرش جس کے قدم کا نشاں ہے

وہ فانوس فطرت ہیں دونوں جہاں میں		انہیں کی تجلی یہاں ہے وہاں ہے

یہ سارا جہاں ان کے زیر قدم ہے		کہ پامال ان کا مکاں لامکاں ہے
Flag Counter