جب پپیہے سے پوچھاکہ اے نیم جاں یاد میں کس کی کہتا ہے تو پی کہاں
کون ہے پی ترا کیاہے نام و نشاں بول اٹھا بس وہی جس پہ شیداہے تو
میں نے قمری سے کی جا کے یہ گفتگو گاتی رہتی ہے کوکو توکیوں کوبکو
ڈھونڈتی ہے کسے کس کی ہے آرزو بولی سن میرا نغمہ ہے حق سرّہ
آکے جگنو جو چمکا مرے روبرو عرض کی میں نے اے شاہدشعلہ رو
کس کی طلعت ہے تو کس کا جلوہ ہے تو یہ کہا جس کا جلوہ ہے ہر چار سو
میں نے پوچھا یہ پروانے سے دوبدو کس ليے شمع کی لو پہ جلتا ہے تو
شعلہ نار میں ہے کس کی جستجو جلتے جلتے کہا اس نے یانورہ
اعظمی گرچہ بے حد گنہ گار ہے مجرم و بے عمل ہے خطا کار ہے
حق تعالی مگر ایسا غفار ہے اس کی رحمت کا نعرہ ہے لاتقنطوا