Brailvi Books

جنتی زیور
621 - 676
رَبِّ سَلَّمْ عَلیٰ رَسُوْلِ اللہ		مَرْحَبَا مَرْحَبَا رَسُوْلِ اللہ
بھیج اے رب میرے درودوسلام 		اپنے پیارے نبی پر بھیج مدام
    برسہابرس بلکہ ہزاروں برس تک یہ نور محمدی خداوند قدوس کی تسبیح وتقدیس میں مشغول ومصروف رہا یہاں تک کہ اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو اس مقدس نور کو ان کی پیشانی میں امانت رکھا،اور جب تک خداوند عالم کو منظور تھا ، حضرت آدم علیہ السلام بہشت کے باغوں میں اپنی بیوی حضرت حوا کے ساتھ سکونت فرماتے تھے یہاں تک کہ جب خدا وند عالم کے حکم سے حضرت آدم وحوا علیہما السلام بہشتِبریں سے روئے زمین پر تشریف لائے اوربال بچوں کی پیدائش کا سلسلہ شروع ہوا تو نور محمدی جو آپ کی پیشانی میں جلوہ گر تھا ،وہ آپ کے فرزند حضرت شیث علیہ السلام کی پیشانی میں منتقل ہوا اور سلسلہ بسلسلہ ،درجہ بدرجہ نورِ محمدی مقدس پیٹھوں سے مبارک شکموں کی طرف تفویض ہوتارہا،اور جن جن مقدس پیشانیوں میں یہ نور چمکتا رہا ہر جگہ عجیب عجیب معجزات وخوارق عادات کا ظہور ہوتا رہا اور اس نور پاک کی برکتوں کے فیوض طرح طرح سے ظاہر ہوتے رہے۔ چنانچہ حضرت آدم علیہ السلام کی مقدس پیشانی میں اس نور محمدی نے یہ جلوہ دکھایا کہ حضرت آدم علیہ السلام مسجود ملائکہ ہو گئے اور تمام فرشتوں نے ان کے سامنے سجدہ کیا یہی نور جب حضرت نوح علیہ السلام کو ملاتو طوفان میں اسی نور کی بدولت ان کی کشتی سلامتی کے ساتھ جودی پہاڑ پر پہنچ کر ٹھہر گئی ۔اسی نور محمدی کا فیضان تھا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب نمرودکافر نے آگ کے شعلوں میں ڈال دیا تو وہ آگ جس کے بلند شعلوں کے اوپر سے کوئی پرند بھی نہیں گزرسکتاتھاایک دم ٹھنڈی اور سلامتی و راحت کا باغ بن گئی۔

    یہی وجہ ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام آپ کی تشریف آوری کے مشتاق و
Flag Counter