الغرض نور محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم برابر ایک پیشانی سے دوسری پیشانیوں میں منتقل ہوتا رہا اور اپنے فیوض و برکات کے جلوؤں سے ہر دور کے لوگوں کو نورانیت بخشتا رہا ،یہاں تک کہ یہ نور پاک حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے دادا حضرت عبد المطلب کو ملا اسی نور اقدس کا طفیل تھا کہ ابرہہ بادشاہ حبش کا وہ لشکر جو کعبہ ڈھانے کے ليے چڑھائی کرکے آیا تھا حضرت عبدالمطلب کی بدولت چھوٹے چھوٹے پرندے ابابیلوں کی کنکریوں سے پورا لشکر مع ہاتھیوں کے ہلاک وبرباد ہوگیااور خدا کا مقدس گھر خانہ کعبہ ایک کافر کے حملوں سے سلامت رہا۔