وہ اٹھی دیکھ لو گردِ سواری عیاں ہونے لگے انوار باری
نقیبوں کی صدائیں آرہی ہیں کسی کی جان کو تڑپا رہی ہیں
مؤدب ہاتھ باندھے آگے آگے چلے آتے ہیں کہتے آگے آگے
دا جن کے شرف پر سب نبی ہیں یہی ہیں وہ یہی ہیں وہ یہی ہیں
یہی والی ہیں سارے بیکسوں کے یہی فریادرس ہیں بے بسوں کے
انہیں کی ذات ہے سب کا سہارا انہیں کے درسے ہے سب کاگزارا
انہیں سے کرتی ہیں فریاد چڑیاں انہیں سے چاہتی ہیں داد چڑیاں
یہی ہیں جو عطا فرمائیں دولت کریں خود جو کی روٹی پر قناعت
انہیں پر دونوں عالم مر رہے ہیں انہیں پر جان صدقے کر رہے ہیں
فزوں رتبہ ہے صبح وشام ان کا محمد مصطفی ہے نام ان کا
کوئی دامن سے لپٹا رورہا ہے کوئی ہر گام محوِالتجاء ہے
ادھر بھی اک نظر ہو تاج والے کوئی کب تک دلِ مضطر سنبھالے
بہت نزدیک آپہنچا وہ پیارا فدا ہے جان ودل جس پر ہمارا
اٹھیں تعظیم کو یارانِ محفل ہوا جلوہ نما وہ جانِ محفل