صبا نے کس کی آمد کی سنائی مرادِبلبل بے تاب لائی
مچی ہیں شادیاں کیسی گلوں میں مبارکبادیاں ہیں بلبلوں میں
یہ نرگس کس کا رستہ دیکھتی ہے یہ سوسن کس کی مدحت کر رہی ہے
کھلے پڑتے ہیں سب غنچے یہ کیا ہے انہیں کس پھول کا شوق لقا ہے
نئی پوشاک بدلی ہے گلوں نے مچایاشورہے کیوں بلبلوں نے
نئی معلوم ہے یہ ماجرا کیا یہ کیسا حکم ہے رضواں کو آیا
بنا دے تو چمن ہر ایک بن کو نہ ہو جنت سے کچھ نسبت دلہن کو
ہوا مالک کو یہ حکمِ خداوند کہ دروازے جہنم کے ہوں سب بند
قریشی جانور کیوں بولتے ہیں یہ کس کے وصف میں لب کھولتے ہیں
زمین کی سمت کیوں مائل ہیں تارے یہ کس کی دید کے سائل ہیں تارے
یہ بت کس واسطے اوندھے پڑے ہیں زمیں پہ کیوں خجالت سے گرے ہیں
زمیں پر کیوں ملائک آرہے ہیں یہ کیوں تحفے پہ تحفے لا رہے ہیں
یہ آمد کون سے ذیشان کی ہے یہ آمد کون سے سلطان کی ہے
اسی حیرت میں تھے اہل تماشہ کہ ناگہ ہاتفِ غیبی یہ بولا