Brailvi Books

جنتی زیور
60 - 676
باتوں سے ساس' خسر' نندوں بلکہ شوہر کے دل میں عورت کی طرف سے جذبۂ محبت پیدا ہوجاتا ہے اور عورت سارے گھر کی نظروں میں وفاداروخدمت گزار سمجھی جانے لگتی ہے اور عورت کی نیک نامی میں چار چاند لگ جاتے ہیں۔

(۱۶)عورت کے فرائض میں یہ بھی ہے کہ اگر شوہر غریب ہو اور گھریلو کام کاج کے لئے نوکرانی رکھنے کی طاقت نہ ہو تو اپنے گھر کا گھریلو کام کاج خود کرلیا کرے اس میں ہر گز ہرگز نہ عورت کی کوئی ذلت ہے نہ شرم ۔بخاری شریف کی بہت سے روایتوں سے پتاچلتا ہے کہ خود رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مقدس صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالی عنہا کا بھی یہی معمول تھا کہ وہ اپنے گھر کا سارا کام کاج خود اپنے ہاتھوں سے کیا کرتی تھیں کنویں سے پانی بھر کر اور اپنی مقدس پیٹھ پر مشک لاد کر پانی لایا کرتی تھیں خود ہی چکی چلا کر آٹا بھی پیس لیتی تھیں اسی وجہ سے ان کے مبارک ہاتھوں میں کبھی کبھی چھالے پڑ جاتے تھے اسی طرح امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اﷲ تعالی عنہ کی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اﷲ تعالی عنہا کے متعلق بھی روایت ہے کہ وہ اپنے غریب شوہر حضرت زبیر رضی اﷲ تعالی عنہ کے یہاں اپنے گھر کا سارا کام کاج اپنے ہاتھوں سے کرلیا کرتی تھیں یہاں تک کہ اونٹ کو کھلانے کے لئے باغوں میں سے کھجوروں کی گٹھلیاں چن چن کر اپنے سر پر لاتی تھیں اور گھوڑے کے لئے گھاس چارہ بھی لاتی تھیں اور گھوڑے کی مالش بھی کرتی تھیں۔

(۱۷)ہر بیوی کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ اپنے شوہر کی آمدنی اور گھر کے اخراجات کو ہمیشہ نظر کے سامنے رکھے اور گھر کا خرچ اس طرح چلائے کہ عزت و آبرو سے زندگی بسر ہوتی رہے۔ اگر شوہر کی آمدنی کم ہو تو ہرگز ہرگز شوہر پر بیجا فرمائشوں کا بوجھ نہ ڈالے۔ اس لئے کہ اگر عورت نے شوہر کو مجبور کیا اور شوہر نے بیوی کی محبت میں قرض کا بوجھ اپنے سر پر اٹھا