لیا اور خدا نہ کرے اس قرض کا ادا کرنا دشوار ہوگیا تو گھریلو زندگی میں پریشانیوں کا سامنا ہو جائے گا اور میاں بیوی کی زندگی تنگ ہو جائے گی اس لئے ہر عورت کو لازم ہے کہ صبروقناعت کے ساتھ جو کچھ بھی ملے خدا کا شکر ادا کرے اور شوہر کی جتنی آمدنی ہو اسی کے مطابق خرچ کرے اور گھر کے اخراجات کو ہر گز ہرگز آمدنی سے بڑھنے نہ دے۔
(۱۸)عورت کو لازم ہے کہ سسرال میں پہنچنے کے بعد ضد اور ہٹ دھرمی کی عادت بالکل ہی چھوڑدے۔ عموما عورتوں کی عادت ہوتی ہے کہ جہاں کوئی بات ان کی مرضی کے خلاف ہوئی فوراً غصہ میں آگ بگولا ہو کر الٹ پلٹ شروع کردیتی ہیں یہ بہت بری عادت ہے لیکن میکے میں چونکہ ماں باپ اپنی بیٹی کاناز اٹھاتے ہیں اس لئے میکے میں تو ضد اور ہٹ دھرمی اور غصہ وغیرہ سے عورت کو کچھ زیادہ نقصان نہیں پہنچتا لیکن سسرال میں ماں باپ سے نہیں بلکہ ساس' خسر اور شوہر سے واسطہ پڑتا ہے ان میں سے کون ایسا ہے جو عورت کے ناز اٹھانے کو تیار ہوگا۔ اس لئے سسرال میں عورت کی ضد اور ہٹ دھرمی اور غصہ اور چڑچڑاپن عورت کے لئے بے حد نقصان کا سبب بن جاتا ہے کہ پورے سسرال والے عورت کی ان خراب عادتوں کی وجہ سے بالکل ہی بیزار ہو جاتے ہیں اور عورت سب کی نظروں میں ذلیل و خوار ہو جاتی ہے۔
(۱۹)عموما سسرال کا ماحول میکے کے ماحول سے الگ تھلگ ہوتا ہے اور سب نئے نئے لوگوں سے عورت کا واسطہ پڑتا ہے اس لئے سچ پوچھو تو سسرال ہر عورت کے لئے ایک امتحان گاہ ہے جہاں اس کی ہر حرکت و سکون پر نظر رکھی جائے گی اور اس کے ہر عمل پر تنقید کی جائے گی۔ نیا ماحول ہونے کی وجہ سے ساس اور نندوں سے کبھی کبھی خیالات میں ٹکراؤ بھی ہوگا اور اس موقع پر بعض وقت ساس اور نندوں کی طرف سے جلی کٹی اور طعنوں کو سنوں