(۱۲)عورت کے لئے یہ بات بھی خاص طور پر قابل لحاظ ہے کہ جب تک شوہر اور ساس اور خسر وغیرہ نہ کھا پی لیں خود نہ کھائے بلکہ سب کو کھلا پلا کر خود سب سے اخیر میں کھائے۔ عورت کی اس ادا سے شوہر اور اس کے سب گھر والوں کے دل میں عورت کی قدرومنزلت اور محبت بڑھ جائے گی۔
(۱۳)عورت کو چاہے کہ سسرال میں جاکر اپنے میکے والوں کی بہت زیادہ تعریف اور بڑائی نہ بیان کرتی رہے کیونکہ اس سے سسرال والوں کو یہ خیال ہو سکتا ہے کہ ہماری بہو ہم لوگوں کو بے قدرسمجھتی ہے اورہمارے گھروالوں اور گھر کے ماحول کی توہین کرتی ہے اس لئے سسرال والے بھڑک کر بہو کی بے قدری اور اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔
(۱۴)گھر کے اندر ساس' نندیں یا جیٹھانی' دیورانی یا کوئی دوسری عورتیں آپس میں چپکے چپکے باتیں کررہی ہوں تو عورت کو چاہے کہ ایسے وقت میں ان کے قریب نہ جائے اور نہ یہ جستجو کرے کہ وہ آپس میں کیا باتیں کررہی ہیں اور بلاوجہ یہ بدگمانی بھی نہ کرے کہ کچھ میرے ہی متعلق باتیں کر رہی ہوں گی کہ اس سے خواہ مخواہ دل میں ایک دوسرے کی طرف سے کینہ پیدا ہو جاتا ہے جو بہت بڑا گناہ ہونے کے ساتھ ساتھ بڑے بڑے فساد ہونے کا سبب بن جایا کرتا ہے۔
(۱۵)عورت کو یہ بھی چاہے کہ سسرال میں اگر ساس یا نندوں کو کوئی کام کرتے دیکھے تو جھٹ پٹ اٹھ کر خود بھی کام کرنے لگے اس سے ساس نندوں کے دل میں یہ اثر پیدا ہوگا کہ وہ عورت کو اپنا غمگسار اور رفیق کار بلکہ اپنا مددگار سمجھنے لگیں گی جس سے خود بخود ساس نندوں کے دل میں ایک خاص قسم کی محبت پیدا ہو جائے گی خصوصاََ ساس' خسر اور نندوں کی بیماری کے وقت عورت کو بڑھ چڑھ کر خدمت اور تیمارداری میں حصہ لینا چاہے کہ ایسی