اسی میں ہے کہ ساس اور خسر کی زندگی بھر ہرگز کبھی عورت کو الگ رہنے کا خیال بھی نہیں کرنا چاہے ہاں اگر ساس اور خسر خود ہی اپنی خوشی سے بیٹے کو اپنے سے الگ کردیں تو پھر الگ رہنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن الگ رہنے کی صورت میں بھی الفت و محبت اور میل جول رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ہر مشکل میں پورے کنبے کو ایک دوسرے کی امداد کا سہاراملتا رہے اور اتفاق و اتحاد کے ساتھ پورے کنبے کی زندگی جنت کا نمونہ بنی رہے۔
(۱۰)عورت کو اگر سسرال میں کوئی تکلیف ہو یا کوئی بات ناگوار گزرے تو عورت کو لازم ہے کہ ہر گز میکے میں آکر چغلی نہ کھائے کیونکہ سسرال کی چھوٹی چھوٹی سی باتوں کی شکایت میکے میں آکرماں باپ سے کرنی یہ بہت خراب اور بُری بات ہے سسرال والوں کو عورت کی اس حرکت سے بے حد تکلیف پہنچتی ہے یہاں تک کہ دونوں گھروں میں بگاڑ اور لڑائی جھگڑے شروع ہو جاتے ہیں جس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ عورت شوہر کی نظروں میں بھی قابل نفرت ہوجاتی ہے اور پھر میاں بیوی کی زندگی لڑائی جھگڑوں سے جہنم کا نمونہ بن جا تی ہے ۔
(۱۱)عورت کو چاہے کہ جہاں تک ہوسکے اپنے بدن اور کپڑوں کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھے۔ میلی کچیلی اور پھوہڑ نہ بن رہے بلکہ اپنے شوہر کی مرضی اور مزاج کے مطابق بناؤ سنگھار بھی کرتی رہے۔ کم سے کم ہاتھ پاؤں میں مہندی' کنگھی چوٹی' سرمے کاجل وغیرہ کا اہتمام کرتی رہے۔ بال بکھرے اور میلے کچیلے چڑیل بنی نہ پھرے کہ عورت کا پھوہڑپن عام طور پر شوہر کی نفرت کا باعث ہوا کرتا ہے خدا نہ کرے کہ شوہر عورت کے پھوہڑپن کی وجہ سے متنفر ہو جائے اور دوسری عورتوں کی طرف تاک جھانک شروع کردے تو پھرعورت کی زندگی تباہ وبرباد ہوجائے گی اور پھر اس کو عمر بھر رونے دھونے اور سر پیٹنے کے سوا کوئی چارہِ کار نہیں رہ جائے گا۔