Brailvi Books

جنتی زیور
586 - 676
کیا تو آپ نے حضرت علی کرم اﷲوجہہ سے فرمایا کہ لکھو۔
    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ھٰذَا کِتَابٌ مِّنْ رَّسُوْلِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ اِلٰی مَنْ طَرَقَ الدَّارَ مِنَ الْعُمَّارِ وَ الزُّوَّارِ وَالسَّائِحِیْنَ اِلَّا طَارِقٌ یَّطْرُقُ بِخَیْرٍ یَارَحْمٰنُO اَمَّا بَعْدُ فَاِنَّ لَنَا وَلَکُمْ فِی الْحَقِّ سَعَۃً فَاِنْ تَکُ عَاشِقاً مُوْلِعاً اَوْفَاجِرًا مُقْتَحِمًا اَوْرَاعِیاً حَقْاً مُبْطِلاً فَھٰذَا کِتَا بٌ یَّنْطِقُ عَلَیْنَا وَ عَلَیْکُم بِالْحَقِّ اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَO وَرُسُلُنَا یَکْتُبُوْنَ مَا تَمْکُرُوْنَO اُتْرُکُوْاصَاحِبَ کِتَابِیْ ھٰذَا وَاَنْطَلِقُوْ اِلٰی عَبَدَۃِ الْاَ صَنْامِ وَاِلٰی مَنْ یَّزْ عَمُ اَنَّ مَعَ اللہِ اِلٰھًا اٰخَرَ لَآاِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ؕ کُلَّ شَیْءٍ ھَالِکٌ اِلَّا وَجْھَہٗ لَہُ الْحُکْمُ اِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ O تُقْلَبُوْنَ O حٰمۤ O لَا تُنْصَرُوْنَ O حٰمۤ O عٓسٓقٓO تَفَوَّقَ اَعْدَآءُ اللہِ وَبَلَغَتْ حُجَّۃُ اللہِ وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ ؕ فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللہُ وَھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ ؕ
    یہ حرز آسیب زدہ کی گردن میں تعویذ بنا کر پہنا دیا جائے ان شاء اﷲ تعالیٰ آسیب جاتا رہے گا اگر گھر میں آسیب کا اثر ہے تو دیوار پر چسپاں کر دیا جائے ان شاء اﷲ تعالیٰ آسیب بھاگ جائے گا چنانچہ حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ اس حرز کو لے کر گھر آئے اور رات کو اپنے سر کے نیچے رکھ کر سوئے تو ان کی آنکھ اس وقت کھلی جب کوئی چلاچلا کر کہہ رہا تھا کہ اے ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ! لات و عزی کی قسم ہے کہ میں ان کلمات سے جل رہا ہوں میں اس تحریر والے کے حق کا وسیلہ دے کر کہتا ہوں کہ اگر تم نے اس حرز کو اٹھا لیا تو ہم تمہارے گھر اور تمہارے ہمسایہ کے گھر نہ آئیں گے حضرت ابو دجانہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ فجر کو مسجد نبوي صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم میں آئے اور نماز پڑھ کر رات کاماجرا سنایا تو حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا۔
Flag Counter