Brailvi Books

جنتی زیور
57 - 676
کہ اس سے میاں بیوی کے تعلقات میں فساد و خرابی پیدا ہو جاتی ہے اور خواہ مخواہ شوہر کے دل میں نفرت پیدا ہو جاتی ہے۔

(۹) جب تک ساس اور خسر زندہ ہیں عورت کے لئے ضروری ہے کہ ان دونوں کی بھی تابعداری اور خدمت گزاری کرتی رہے اور جہاں تک ممکن ہو سکے ان دونوں کو راضی اور خوش رکھے۔ ورنہ یاد رکھو! کہ شوہر ان دونوں کا بیٹا ہے اگر ان دونوں نے اپنے بیٹے کو ڈانٹ ڈپٹ کر چانپ چڑھادی تو یقینا شوہر عورت سے ناراض ہوجائے گا اور میاں بیوی کے درمیان باہمی تعلقات تہس نہس ہو جائیں گے اسی طرح اپنے جیٹھوں' دیوروں اور نندوں، بھاوجوں کے ساتھ بھی خوش اخلاقی برتے اور ان سبھوں کی دل جوئی میں لگی رہے اور کبھی ہرگز ہرگز ان میں سے کسی کو ناراض نہ کرے۔ورنہ دھیان رہے کہ ان لوگوں سے بگاڑ کا نتیجہ میاں بیوی کے تعلقات کی خرابی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ عورت کو سسرال میں ساس اور خسر سے الگ تھلگ رہنے کی ہرگز کبھی کوشش نہیں کرنی چاہے۔ بلکہ مل جل کر رہنے میں ہی بھلائی ہے۔ کیونکہ ساس اور خسر سے بگاڑ اور جھگڑے کی یہی جڑ ہے اور یہ خود سوچنے کی بات ہے کہ ماں باپ نے لڑکے کو پالا پوسا اور اس امید پر اس کی شادی کی کہ بڑھاپے میں ہم کو بیٹے اور اس کی دلہن سے سہارا اور آرام ملے گا لیکن دلہن نے گھر میں قدم رکھتے ہی اس بات کی کوشش شروع کردی کہ بیٹا اپنے ماں باپ سے الگ تھلگ ہو جائے تو تم خود ہی سوچو کہ دلہن کی اس حرکت سے ماں باپ کو کس قدر غصہ آئے گا اور کتنی جھنجھلاہٹ پیدا ہوگی اس لئے گھر میں طرح طرح کی بدگمانیاں اور قسم قسم کے فتنہ و فساد شروع ہو جاتے ہیں یہاں تک کہ میاں بیوی کے دلوں میں پھوٹ پیدا ہو جاتی ہے اور جھگڑے تکرار کی نوبت آجاتی ہے اور پھر پورے گھر والوں کی زندگی تلخ اور تعلقات درہم برہم ہو جاتے ہیں لہٰذا بہتری