دلجوئی کی باتیں کرے اور ہرگز ہرگز ایسی کوئی بات نہ سنائے نہ کوئی ایسا سوال کرے جس سے شوہر کا دل دکھے۔
(۷)اگر شوہر کو عورت کی کسی بات پرغصہ آجائے تو عورت کو لازم ہے کہ اس وقت خاموش ہو جائے اور اس وقت ہر گز کوئی ایسی بات نہ بولے جس سے شوہر کا غصہ اور زیادہ بڑھ جائے اور اگر عورت کی طرف سے کوئی قصور ہو جائے اور شوہر غصہ میں بھر کر عورت کو برا بھلا کہہ دے اور ناراض ہو جائے تو عورت کو چاہے کہ خود روٹھ کر اور گال پھُلا کر نہ بیٹھ جائے بلکہ عورت کو لازم ہے کہ فوراََ ہی عاجزی اور خوشامد کرکے شوہر سے معافی مانگے اور ہاتھ جوڑ کر' پاؤں پکڑ کر جس طرح وہ مانے اسے منالے۔ اگر عورت کا کوئی قصور نہ ہو بلکہ شوہر ہی کا قصور ہو جب بھی عورت کو تن کر اور منہ بگاڑ کر بیٹھ نہیں رہنا چاہے بلکہ شوہر کے سامنے عاجزی و انکساری ظاہر کرکے شوہر کو خوش کرلینا چاہے کیونکہ شوہر کا حق بہت بڑا ہے اس کا مرتبہ بہت بلند ہے اپنے شوہر سے معافی تلافی کرنے میں عورت کی کوئی ذلت نہیں ہے بلکہ یہ عورت کے لئے عزت اور فخر کی بات ہے کہ وہ معافی مانگ کر اپنے شوہر کو راضی کرلے۔
(۸)عورت کو چاہے کہ وہ اپنے شوہر سے اس کی آمدنی اور خرچ کا حساب نہ لیا کرے کیوں کہ شوہروں کے خرچ پر عورتوں کے روک ٹوک لگانے سے عموماً شوہر کو چِڑ پیدا ہو جاتی ہے اور شوہروں پر غیرت سوار ہو جاتی ہے کہ میری بیوی مجھ پر حکومت جتاتی ہے اور میری آمدنی خرچ کا مجھ سے حساب طلب کرتی ہے اس چِڑ کا انجام یہ ہو تا ہے کہ رفتہ رفتہ میاں بیوی کے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جایا کرتا ہے اسی طرح عورت کو چاہے کہ اپنے شوہر کے کہیں آنے جانے پر روک ٹوک نہ کرے نہ شوہر کے چال چلن پر شبہ اور بدگمانی کرے