Brailvi Books

جنتی زیور
55 - 676
اور کوسنوں سے شوہر کی دل شکنی یقینی طور پر ہوگی جو میاں بیوی کے نازک تعلقات کی گردن پر چُھری پھیر دینے کے برابر ہے ظاہر ہے کہ شوہر اس قسم کے طعنوں اور کوسنوں کو سن سن کر عورت سے بیزار ہو جائے گا اور محبت کی جگہ نفرت و عداوت کا ایک ایسا خطرناک طوفان اٹھ کھڑا ہو گا کہ میاں بیوی کے خوشگوار تعلقات کی ناؤ ڈوب جائے گی جس پر تمام عمر پچھتانا پڑے گا مگر افسوس کہ عورتوں کی یہ عادت بلکہ فطرت بن گئی ہے کہ وہ شوہروں کو طعنے اور کوسنے دیتی ہی رہتی ہیں اور اپنی دنیا و آخرت کو تباہ و برباد کرتی رہتی ہیں۔ حدیث شریف میں ہے کہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ میں نے جہنم میں عورتوں کو بکثرت دیکھا۔ یہ سن کر صحابہ کرام علیھم الرضوان نے پوچھا کہ یا رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! اس کی کیا وجہ ہے کہ عورتیں بکثرت جہنم میں نظر آئیں۔ تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ عورتوں میں دو بُری خصلتوں کی وجہ سے۔ ایک تو یہ کہ عورتیں دوسروں پر بہت زیادہ لعن طعن کرتی رہتی ہیں دوسری یہ کہ عورتیں اپنے شوہروں کی ناشکری کرتی رہتی ہیں چنانچہ تم عمر بھر ان عورتوں کے ساتھ اچھے سے اچھا سلوک کرتے رہو۔ لیکن اگر کبھی ایک ذرا سی کمی تمہاری طرف سے دیکھ لیں گی تو یہی کہیں گی کہ میں نے کبھی تم سے کوئی بھلائی دیکھی ہی نہیں۔
 (صحیح البخاری، کتاب الایمان ۔۲۱۔باب کفران العشیروکفر دون کفر، رقم ۲۹، ج۱،ص۲۳ وایضافی کتاب النکاح۸۹،باب کفران العشیر وھو الزوج الخ، رقم ۵۱۹۱، ج۳،ص۴۶۳)
 (۶)بیوی کو لازم ہے کہ ہمیشہ اٹھتے بیٹھتے بات چیت میں ہر حالت میں شوہر کے سامنے با ادب رہے اور اس کے اعزازواکرام کا خیال رکھے۔ شوہر جب کبھی بھی باہر سے گھر میں آئے تو عورت کو چاہے کہ سب کام چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہو اور شوہر کی طرف متوجہ ہو جائے اس کی مزاج پرسی کرے اور فوراََ ہی اس کے آرام و راحت کا انتظام کرے اور اسکے ساتھ
Flag Counter