Brailvi Books

جنتی زیور
54 - 676
اس پر صبر و شکر کے ساتھ اپنا گھر سمجھ کر ہنسی خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرے اگر کوئی زیور یا کپڑا یا سامان پسند آجائے اور شوہر کی مالی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ اس کو لا سکے تو کبھی ہر گز ہر گز شوہر سے اس کی فرمائش نہ کرے اور اپنی پسند کی چیزیں نہ ملنے پر کبھی ہر گز کوئی شکوہ شکایت نہ کرے نہ غصہ سے منہ پھلائے نہ طعنہ مارے' نہ افسوس ظاہر کرے۔ بلکہ بہترین طریقہ یہ ہے کہ عورت شوہر سے کسی چیز کی فرمائش ہی نہ کرے کیونکہ بار بار کی فرمائشوں سے عورت کا وزن شوہر کی نگاہ میں گھٹ جاتا ہے۔ ہاں اگر شوہر خود پوچھے کہ میں تمھارے لئے کیا لاؤں تو عورت کو چاہے کہ شوہر کی مالی حیثیت دیکھ کر اپنی پسند کی چیز طلب کرے اور جب شوہر چیز لائے تو وہ پسند آئے یا نہ آئے مگر عورت کو ہمیشہ یہی چاہے کہ وہ اس پر خوشی کا اظہار کرے۔ ایسا کرنے سے شوہر کا دل بڑھ جائے گا اور اس کا حوصلہ بلند ہو جائے گا اور اگر عورت نے شوہر کی لائی ہوئی چیز کو ٹھکرادیا اور اس میں عیب نکالا یا اس کو حقیر سمجھا تو اس سے شوہر کا دل ٹوٹ جائے گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ شوہرکے دل میں بیوی کی طرف سے نفرت پیدا ہوجائے گی اور آگے چل کر جھگڑے لڑائی کا بازار گرم ہو جائے گا اور میاں بیوی کی شادمانی و مسرت کی زندگی خاک میں مل جائے گی۔

(۵)عورت پر لا زم ہے کہ اپنے شوہر کی صورت وسیرت پر نہ طعنہ مارے نہ کبھی شوہر کی تحقیر اور اس کی ناشکری کرے اور ہر گز ہرگز کبھی اس قسم کی جلی کٹی بولیاں نہ بولے کہ ہائے اﷲ! میں کبھی اس گھر میں سکھی نہیں رہی۔ ہائے ہائے میری تو ساری عمر مصیبت ہی میں کٹی۔ اس اجڑے گھر میں آکر میں نے کیا دیکھا۔ میرے ماں باپ نے مجھے بھاڑ میں جھونک دیا کہ مجھے اس گھر میں بیاہ دیا مجھ نگوڑی کو اس گھر میں کبھی آرام نصیب نہیں ہوا۔ ہائے میں کس پھکڑّ اور دلدر سے بیاہی گئی۔ اس گھر میں تو ہمیشہ اُلّوہی بولتا رہا۔اس قسم کے طعنوں