Brailvi Books

جنتی زیور
53 - 676
کے شوہر کو کیا کیا چیزیں اور کون کون سی باتیں ناپسند ہیں اور وہ کن کن باتوں سے خوش ہوتا ہے اور کون کون سی باتوں سے ناراض ہوتا ہے اٹھنے بیٹھنے' سونے جاگنے' پہننے اوڑھنے اور بات چیت میں اس کی عادت اور اس کا ذوق کیا اور کیسا ہے؟ خوب اچھی طرح شوہر کا مزاج پہچان لینے کے بعد عورت کو لازم ہے کہ وہ ہر کام شوہر کے مزاج کے مطابق کرے ہر گز ہر گز شوہر کے مزاج کے خلاف نہ کوئی بات کرے نہ کوئی کام۔

(۳)عورت کو لازم ہے کہ شوہر کوکبھی جلی کٹی باتیں نہ سنائے نہ کبھی اس کے سامنے غصہ میں چلا چلا کر بولے نہ اس کی باتوں کا کڑوا تیکھا جواب دے نہ کبھی اس کو طعنہ مارے نہ کوسنے دے نہ اس کی لائی ہوئی چیزوں میں عیب نکالے نہ شوہر کے مکان و سامان وغیرہ کو حقیر بتائے نہ شوہر کے ماں باپ یا اس کے خاندان یا اس کی شکل و صورت کے بارے میں کوئی ایسی بات کہے جس سے شوہر کے دل کو ٹھیس لگے اور خواہ مخواہ اس کو سن کر برا لگے اس قسم کی باتوں سے شوہر کا دل دکھ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ شوہر کو بیوی سے نفرت ہونے لگتی ہے جس کا انجام جھگڑے لڑائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا یہاں تک کہ میاں بیوی میں زبردست بگاڑ ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ یا توطلاق کی نوبت آجاتی ہے یا بیوی اپنے میکے میں بیٹھ رہنے پر مجبور ہو جاتی ہے اور اپنی بھاوجوں کے طعنے سن سن کر کوفت اور گھٹن کی بھٹی میں جلتی رہتی ہے اور میکے اور سسرال والوں کے دونوں خاندانوں میں بھی اسی طرح اختلاف کی آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ کبھی کورٹ کچہری کی نوبت آجاتی ہے اور کبھی مار پیٹ ہو کر مقدمات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور میاں بیوی کی زندگی جہنم بن جاتی ہے اور دونوں خاندان لڑ بھڑ کر تباہ و برباد ہوجاتے ہیں۔

(۴)عورت کو چاہے کہ شوہر کی آمدنی کی حیثیت سے زیادہ خرچ نہ مانگے بلکہ جو کچھ ملے