Brailvi Books

جنتی زیور
509 - 676
اتنا مارتے تھے کہ مارتے مارتے خود تھک جاتے تھے مگر حضرت لبینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اف نہیں کرتی تھیں بلکہ نہایت ہی جرات واستقلال کے ساتھ کہتی تھیں کہ اے عمر! تم جتنا چاہو مجھ غریب کو مار لو اگر خدا کے سچے رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر تم ایمان نہیں لاؤ گے تو خدا ضرور تم سے انتقام لے گا ۔

تبصرہ:۔حضرت لبینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی اس ایمانی تقریر کی جہانگیری تو دیکھو کہ ابھی حضرت لبینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے زخم نہیں بھرے تھے کہ اسلام کی حقانیت نے حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کو اس طرح دبوچ لیا کہ وہ بے اختیار دامن اسلام میں آگئے اور زندگی بھر اپنے کئے پرپچھتاتے رہے اور حضرت لبینہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا جیسی غریب و مظلوم لونڈیوں کے سامنے شرم سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے اور ان کمزوروں اور غریبوں سے معافی مانگا کرتے تھے یہاں تک کہ حضرت بلال رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جن کو یہ گرم گرم جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر ان کے سینے پر وزنی پتھر رکھا ہوا دیکھ کر حقارت سے ٹھو کر مار کر گزرتے تھے تھوڑے دن نہیں گزرے کہ امیر المومنین ہوتے ہوئے اپنے تخت شاہی پر بیٹھ کر یہ کہا کرتے تھے کہ سیدنا و مولانا بلال یعنی بلال تو ہمارے آقا ہیں اور بلال کی صورت کو کمال ادب اور محبت کے ساتھ دیکھ کر زبان حال سے بھرے مجمعوں میں یہ کہا کرتے تھے کہ۔
بدر اچھا ہے فلک پر نہ ہلال اچھا ہے 

چشم بینا ہو تو دونوں سے بلال اچھا ہے
(۲۱)حضرت بی بی نَہدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ بھی لونڈی تھیں مگر اسلام لانے پر کافروں نے ان کے ساتھ کیسے کیسے ظالمانہ سلوک کئے اس کی تصویر کھینچنے سے قلم کا سینہ شق ہو جاتا ہے اور ہاتھ کانپنے لگتے ہیں لیکن یہ
Flag Counter