Brailvi Books

جنتی زیور
508 - 676
لہٰذا ڈر خوف و ہراس اور بزدلی سے موت نہیں ٹل سکتی اس لئے بہادر بنو شیر دل بنو اور بی بی صفیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور بی بی ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اور بی بی انصاریہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی مجاہدانہ سرفروشیوں کا کردار پیش کرو۔
    (۱۹)حضرت بی بی سُمَیَّہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ حضرت عمار بن یاسر صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہما کی والدہ ہیں اسلام لانے کی وجہ سے مکہ کے کافروں نے ان کو بہت زیادہ ستایا ایک مرتبہ ابو جہل نے نیزہ تان کر ان سے دھمکا کر کہا کہ تو کلمہ نہ پڑھ ورنہ میں تجھے یہ نیزہ مار دوں گا حضرت بی بی سمیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے سینہ تان کر زور زور سے کلمہ پڑھنا شروع کیا ابو جہل نے غصہ میں بھر کر ان کی ناف کے نیچے اس زور سے نیزہ مارا کہ وہ خون میں لت پت ہو کر گر پڑیں اور شہید ہوگئیں۔
(الاستیعاب ،کتاب النساء ،باب السین۳۴۲۱،سمیۃ ام عمار بن یاسر،ج۴،ص۴۱۹)
تبصرہ:۔یہ ایک جاں باز مسلمان عورت کا پہلا خون تھا جس سے خدا کی زمین رنگین ہوگئی مگر اس خون کی گرمی نے ہزاروں مسلمان مردوں اور عورتوں میں جوش جہاد کا ایسا جذبہ پیدا کر دیا کہ بدر واُحد اور حنین کا میدان کفار کا قبرستان بن گیا اور مکہ و خیبر میں کفر و شرک کے جنگلات کٹ گئے اور ہر طرف اسلام کا باغ پھلنے پھولنے لگا۔
(۲۰)حضرت بی بی لُبَیْنَہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ ایک لونڈی تھیں ابتداء اسلام ہی میں اسلام کی حقانیت کا نور انکے دل میں چمک اٹھا اور یہ اسلام کے دامن میں آگئیں کفار مکہ نے ان کو ایسی ایسی درد ناک تکلیفیں دیں کہ اگر پہاڑ بھی ان کی جگہ پر ہوتا تو شاید لرز جاتا مگر اس پیکر ایمان کے قدم نہیں ڈگمگائے خود حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ جب تک دامن اسلام میں نہیں آئے تھے اس لونڈی کو
Flag Counter