Brailvi Books

جنتی زیور
510 - 676
اﷲ والی بڑی بڑی مار دھاڑ کو برداشت کرتی رہی اور مصیبتیں جھیلتی رہی مگر اسلام سے بال بھر بھی اس کے قدم کبھی بھی نہیں ڈگمگائے یہاں تک کہ وہ دن آگیا کہ اسلام کو ڈھانے والے خود اسلام کے معمار بن گئے اور اسلام کے خون کے پیاسے اپنے خونوں سے اسلام کے باغ کوسینچ سینچ کر سرخرو بننے لگے ۔
     (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، رقم۱۲۱۶۳،اُمّ عبیس،ج۸،ص۴۳۴)
(۲۲)حضرت بی بی اُمّ عُبَیْس رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    حضرت بی بی نہدیہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی طرح یہ بھی لونڈی تھیں اور ان کو بھی کافروں نے بہت ستایا بے حد ظلم و ستم کیا لوہا گرم کر کے ان کے بدن کے نازک حصوں پر داغ لگایا کرتے تھے کبھی پانی میں اس قدر ڈبکیاں دیا کرتے تھے کہ ان کا دم گھٹنے لگتا تھا مار پیٹ کا تو پوچھنا ہی کیا وہ تو ان کافروں کا روزانہ ہی کا محبوب مشغلہ تھا آخر پیارے رسول مصطفٰے صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے یار غار صدیق جاں نثار رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اپنا خزانہ خالی کر کے ان مظلوموں کو خرید خرید کر آزاد کر دیا تو ان مصیبت کے ماروں کو کچھ آرام ملا۔
     (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ، رقم۱۲۱۶۳،اُمّ عبیس،ج۸،ص۴۳۴)
(۲۳)حضرت زِنّیرہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ بھی حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے گھرانے کی ایک لونڈی تھیں انہوں نے بھی جب اسلام قبول کر لیا تو سارا گھر ان کی جان کا دشمن ہو گیا اور ان کافروں نے اتنا مارا کہ ان کی آنکھوں کی بینائی جاتی رہی تو کافر ان کو یہ طعنہ دینے لگے کہ تو نے ہمارے دیوتاؤں کو چھوڑ دیا تو تیری آنکھیں پھوٹ گئیں اب کہاں ہے تیرا ایک خدا تو کیوں نہیں اس کو بلاتی کہ وہ تیری آنکھوں کو روشن کر دے یہ طعنہ سن کر وہ نہایت جرأت کے ساتھ کہاکرتی تھیں
Flag Counter