تبصرہ:۔حضرت بی بی صفیہ اور انصاریہ عورت اور حضرت بی بی ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہن کے تینوں واقعات کو پڑھ کر غور کرو کہ مادر اسلام کی آغوش میں کیسی کیسی شیر دل اور بہادر عورتوں نے جنم لیا ہے ان بہادر خواتین اسلام کے کارناموں کو گردش لیل و نہار قیامت تک کبھی نہیں مٹا سکتی ان کے سینوں میں پتھر کی چٹانوں سے زیادہ مضبوط دل تھا جس میں اسلام کی حرارت کا جوش اور محبت رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی ایسی مستی بھری ہوئی تھی کہ کفار کے لشکروں کا دل بادل ان کی نظروں میں مکھیوں اور مچھروں کا جھنڈ نظر آتا تھا اور ان کے دلوں میں صبرو استقامت کا ایسا سمندر لہریں مار رہا تھا کہ اس کے طوفان میں بڑی بڑی مصیبتوں کے پہاڑ پاش پاش ہو جایا کرتے تھے مگر افسوس! آج کل کی مسلمان عورتوں کے دلوں میں محبت رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا چراغ اس طرح بجھ گیا ہے کہ اسلام کا جوش ایمان کا جذبہ محبت رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم كی مستی جہاد کا نشہ سب کچھ غارت ہوگیا اور دنیا کی محبت اور زندگی کی ہوس نے بدن کے رونگٹے رونگٹے میں خوف و ہراس اور بزدلی کی ایسی آندھی چلا دی ہے کہ کفار کے مقابلہ میں ہر مسلمان عورت رونے اور گڑ گڑانے کے سوا کچھ کر ہی نہیں سکتی اے مسلمان عورتو! تم ان جاں باز اور سر فروش جہاد کرنے والی عورتوں کے جذبہ ایمانی اور جوش اسلامی سے سبق سیکھو تم بھی مسلمان عورت ہو اگر کفار کا مقابلہ ہو تو اپنی جان پر کھیل کر اور سر ہتھیلی پر رکھ کر کفار سے لڑتے ہوئے جام شہادت پی لو اور جنت الفردوس میں پہنچ جاؤ خبردار خبردار! کفار کے آگے روتے گڑ گڑاتے ہوئے اور رحم کی بھیک مانگتے ہوئے بزدلی کی موت ہرگز نہ مرو اور یاد رکھو کہ وقت سے پہلے ہرگز موت نہیں آسکتی