اپنی پیٹھ پر روک لیا چنانچہ ان کے کندھے پر اتنا گہرا زخم لگا کہ غار پڑ گیا پھر خود بڑھ کر ابن قمیہ کے کندھے پر اس زور سے تلوار ماری کہ وہ دو ٹکڑے ہو جاتا مگر وہ ملعون دوہری زرہ پہنے ہوئے تھا اس لئے بچ گیا اس جنگ میں بی بی ام عمارہ کے سرو گردن پر تیرہ زخم لگے تھے حضرت بی بی ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے فرزندحضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے ایک کافر نے جنگ احد میں زخمی کردیا اور میرے زخم سے خون بند نہیں ہوتا تھا میری والدہ حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے فوراً اپنا کپڑا پھاڑ کر زخم کو باندھ دیا اور کہا کہ بیٹا اٹھو کھڑے ہو جاؤ اور پھر جہاد میں مشغول ہو جاؤ اتفاق سے وہی کافر سامنے آگیا تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ اے ام عمارہ رضی اﷲ عنہا! دیکھ تیرے بیٹے کو زخمی کرنے والا یہ ہے یہ سنتے ہی حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے جھپٹ کر اس کافر کی ٹانگ میں تلوار کا ایسا بھر پور وار مارا کہ وہ کافر گر پڑا اور پھر چل نہ سکا بلکہ سرین کے بل گھسٹتا ہوا بھاگا یہ منظر دیکھ کر رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم ہنس پڑے اور فرمایا کہ اے ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا! تو خدا کا شکر ادا کر کہ اس نے تجھ کو اتنی طاقت اور ہمت عطا فرمائی ہے تو نے خدا کی راہ میں جہاد کیا حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم دعا فرمائیے کہ اﷲ تعالیٰ ہم لوگوں کو جنت میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی خدمت گزاری کا شرف عطا فرمائے اس وقت آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کے لیے اور ان کے شوہر اور ان کے بیٹوں کے لیے اس طرح دعا فرمائی کہ۔