| جنتی زیور |
میدان جنگ میں پہنچ گئیں وہاں لوگوں نے ان کو بتایا کہ اے عورت! تیرے باپ اور بھائی اور شوہر تینوں اس جنگ میں شہید ہو گئے یہ سن کر اس نے کہا کہ مجھے یہ بتاؤ میرے پیارے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کا کیا حال ہے؟ جب لوگوں نے بتایا کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اگرچہ زخمی ہوگئے ہیں مگر الحمد ﷲ کہ زندہ سلامت ہیں
(السیرۃ النبویۃ لابن ھشام،غزوۂ احد،باب شأن المرأۃ الدیناریۃ،ج۳،ص۸۶)
تو بے اختیار اس کی زبان سے اس شعر کا مضمون نکل پڑا کہ۔
تسلی ہے پناہ بیکساں زندہ سلامت ہے کوئی پروا نہیں سارا جہاں زندہ سلامت ہے
اﷲاکبر! ایسی شیر دل اور بہادر عورت کا کیا کہنا؟ باپ اور شوہر اور بھائی تینوں کے قتل ہوجانے سے صدمات کے تین تین پہاڑ دل پر گر پڑے ہیں مگر محبت رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم كے نشہ میں اس کی مستی کا یہ عالم ہے کہ زبانِ حال سے یہ نعرہ اس کی زبان پر جاری ہے کہ۔
میں بھی اور باپ بھی شوہر بھی برادر بھی فدا اے شہ ديں تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
(۱۸)حضرت ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
یہ جنگ احد میں اپنے شوہر حضرت زید بن عاصم اور اپنے دوبیٹوں حضر ت عمارہ اور حضرت عبداﷲ رضی اﷲ تعالیٰ عنہم کو ساتھ لے کر میدان جنگ میں کود پڑیں اور جب کفار نے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر حملہ کر دیا تو یہ ایک خنجر لے کر کفار کے مقابلہ میں کھڑی ہوگئیں اور کفار کے تیر و تلوار کے ہر ایک وار کو روکتی رہیں یہاں تک کہ جب ابن قمیہ ملعون نے رحمت عالم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر تلوار چلا دی تو سیدہ ام عمارہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے اس تلور کو