Brailvi Books

جنتی زیور
494 - 676
صحابی حضرت عبداﷲ بن جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہ سے ان کا نکاح ہوا تھا لیکن جب وہ جنگ احد میں شہید ہوگئے تو حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ۳ھ میں ان سے نکاح کر لیا اور یہ ''ام المساکین'' کی جگہ ''ام المومنین'' کہلانے لگیں مگر یہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم سے نکاح کے بعد صرف دو یا تین مہینے زندہ رہیں اور ربیع الاول ۴ھ میں بمقام مدینہ منورہ وفات پاگئیں اور جنت البقیع میں ازواج مطہرات کے پہلو میں مدفون ہوئیں حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّمان کی وفات تک ان سے بے حد خوش رہے اور ان کی وفات کا قلب نازک پر بڑا صدمہ گزرا یہ ماں کی جانب سے حضرت ام المومنین بی بی میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی بہن ہیں ان کی وفات کے بعد حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کی بہن میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت زینب ام المساکین و المؤمنین ،ج۴،ص۴۱۶۔۴۱۷)
(۹)حضرت میمونہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    ان کے والد کا نام حارث بن حزن اور والدہ ہند بنت عوف ہیں پہلے ان کانام ''برہ'' تھا مگر جب یہ حضور علیہ الصلوۃ و السلام کے نکاح میں آگئیں تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کانام میمونہ (برکت والی) رکھ دیا ۷ھ عمرۃ القضاء کی واپسی میں حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان سے نکاح فرمایا اور مقام ''سرف'' میں یہ پہلی مرتبہ بستر نبوت پر سوئیں۔ کل چھہتر حدیثیں ان سے مروی ہیں ان کے انتقال کے سال میں اختلاف ہے بعض نے ۵۱ھ بعض نے ۶۱ھ لکھا لیکن ابن اسحقٰ کا قول ہے کہ ۶۳ھ میں ان کی وفات مقام ''سرف'' میں ہوئی جب ان کا جنازہ اٹھایا گیا تو ان کے بھانجے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالیٰ عنہما نے بلند آواز سے فرمایا کہ اے لوگو! یہ رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بیوی ہیں جنازہ
Flag Counter