Brailvi Books

جنتی زیور
493 - 676
تولوگوں کی سمجھ میں یہ بات آئی کہ ہاتھ لمبا ہونے سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مراد کثرت سے صدقہ دینا تھا بہر حال اپنی قسم قسم کی صفات حمیدہ کی بدولت یہ تمام ازواج مطہرات میں خصوصی امتیاز کے ساتھ ممتاز تھیں ۲۰ھ یا ۲۱ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور امیر المومنین حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ہر کوچہ و بازار میں اعلان کرا دیا تھا کہ سب لوگ ام المومنین کے جنازہ میں شریک ہوں چنانچہ بہت بڑا مجمع ہوا امیر المومنین نے خود ہی ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور ان کو جنت البقیع میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی دوسری بیویوں کے پہلو میں دفن کیا۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت زینب بنت جحش ام المؤمنین رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۴۱۳۔۴۱۵)
تبصرہ:۔حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات سے کس قدر والہانہ محبت اور عشق تھا کہ انہوں نے اپنے نکاح کی خبر سن کر اپنا سارا زیور خوشخبری سنانے والی لونڈی کو دے دیا اور سجدہ شکر ادا کیا اور خوشی میں دو ماہ لگاتار روزہ دار رہیں پھر ذرا ان کی سخاوت پر بھی ایک نظر ڈالو کہ شہنشاہ دارین کی ملکہ ہو کر اپنے ہاتھ کی دستکاری سے جو کچھ کمایا کرتی تھیں وہ فقراء ومساکین کو دے دیا کرتی تھیں اور صرف اسی لئے محنت و مشقت کرتی تھیں کہ فقیروں اور محتاجوں کی امداد کریں اﷲ اکبر محبت رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم اور مسکین نوازی و غریب پروری کے یہ جذبات تمام مسلمان عورتوں کے لئے نصیحت آموز و قابل تقلید شاہکار ہیں خداوند کریم سب عورتوں کو توفیق عطا فرمائے (آمین)
(۸)حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ بچپن ہی سے بہت سخی تھیں غریبوں اور مسکینوں کو ڈھونڈ ڈھونڈکر کھانا کھلایا کرتی تھیں اس لئے لوگ ان کو ''ام المساکین'' (مسکینوں کی ماں) کہا کرتے تھے پہلے مشہور
Flag Counter