Brailvi Books

جنتی زیور
492 - 676
ترجمہ کنزالایمان:پھر جب زید کی غرض اس سے نکل گئی تو ہم نے وہ تمہارے نکاح میں دے دی۔(پ22،الاحزاب:37)

    اس آیت کے نزول ہونے پررسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے مسکراتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کون ہے جو زینب کے پاس جاکر اس کو یہ خوشخبری سنا دے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا نکاح اس کے ساتھ کر دیا یہ سن کر ایک خادمہ دوڑی ہوئی گئی اور حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو یہ خوشخبری سنا دی حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کو یہ خوش خبری سن کر اتنی خوشی ہوئی کہ اپنے زیورات اتار کر خادمہ کو انعام میں دے دئے اور خود سجدہ میں گر پڑیں اور پھر دو ماہ لگاتار شکریہ کا روزہ رکھا حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے حضرت زینب رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے ساتھ نکاح کرنے پر اتنی بڑی دعوت ولیمہ فرمائی کہ کسی بیوی کے نکاح پر اتنی بڑی دعوت ولیمہ نہیں کی تھی تمام صحابہ کرام علیھم الرضوان کو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے نان گوشت کھلایا۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت زینب بنت جحش ام المؤمنین رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۴۰۹۔۴۱۲)
    حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس بیبیوں میں حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا اس خصوصیت میں سب بیبیوں سے ممتاز ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے ان کا نکاح خود اپنے حبیب سے کردیا ان کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہ اپنے ہاتھ سے کچھ دستکاری کر کے اس کی آمدنی فقراء و مساکین کو دیا کرتی تھیں چنانچہ ایک مرتبہ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا تھا کہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے میری اس بی بی کی وفات ہوگی جس کے ہاتھ سب بیبیوں سے لمبے ہیں یہ سن کر سب بیبیوں نے ایک لکڑی سے اپنا اپنا ہاتھ ناپا تو حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ہاتھ سب سے لمبا نکلا لیکن جب حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی وفات اقدس کے بعد سب سے پہلے حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات ہوئی
Flag Counter