Brailvi Books

جنتی زیور
491 - 676
میں بھی ذرا بھی ان کا قدم نہیں ڈگمگایا اور پہاڑ کی طرح دین اسلام پر قائم رہیں۔ اک ذرا بھی ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا نہ انہوں نے اپنے کافر باپ کو یاد کیا نہ اپنے کافر بھائیوں بھتیجوں سے کوئی مدد طلب کی خدا پر توکل کر کے ایک نامانوس پردیس کی زمین میں پڑی خدا کی عبادت میں لگی رہیں یہاں تک کہ خدا کے فضل و کرم اور رحمت للعالمین کی رحمت نے ان کی دستگیری کی اور بالکل اچانک خداوند قدوس نے ان کو اپنے محبوب کی محبوبہ بی بی اور ساری امت کی ماں بنا دیا کہ قیامت تک ساری دنیا ان کو ام المومنین (مومنوں کی ماں) کہہ کر پکارتی رہے گی اور قیامت میں بھی ساری خدائی خدا کے اس فضل و کرم کا تماشا دیکھے گی۔

    اے مسلمان عورتو! دیکھو ایمان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے اور خدا پر توکل کرنے کا پھل کتنا میٹھا اور کس قدر لذیذ ہوتا ہے؟ اور یہ تو دنیا میں اجر ملا ہے ابھی آخرت میں ان کو کیا کیا اجر ملے گا؟ اور کیسے کیسے درجات کی بادشاہی ملے گی؟ اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ہم لوگ تو ان درجوں اور مرتبوں کی بلندی و عظمت کو سوچ بھی نہیں سکتے اﷲ اکبر! اﷲاکبر۔
(۷)حضرت زینب بنت جحش رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی پھوپھی اُمیمہ بنت عبدالمطلب کی بیٹی ہیں حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے اپنے آزاد کردہ غلام اور متبنی حضرت زید بن حارثہ سے ان کا نکاح کر دیا لیکن خدا کی شان کہ میاں بیوی میں نباہ نہ ہو سکا اور حضرت زید رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے ان کو طلاق دے دی جب ان کی عدت گزر گئی تو اچانک ایک دن یہ آیت اتر پڑی کہ۔
فَلَمَّاَ قَضٰی زَیْدٌ مِّنْھَا وَطَرًا زَوَّجْنٰکَھَا
Flag Counter