میں بھی ذرا بھی ان کا قدم نہیں ڈگمگایا اور پہاڑ کی طرح دین اسلام پر قائم رہیں۔ اک ذرا بھی ان کا حوصلہ پست نہیں ہوا نہ انہوں نے اپنے کافر باپ کو یاد کیا نہ اپنے کافر بھائیوں بھتیجوں سے کوئی مدد طلب کی خدا پر توکل کر کے ایک نامانوس پردیس کی زمین میں پڑی خدا کی عبادت میں لگی رہیں یہاں تک کہ خدا کے فضل و کرم اور رحمت للعالمین کی رحمت نے ان کی دستگیری کی اور بالکل اچانک خداوند قدوس نے ان کو اپنے محبوب کی محبوبہ بی بی اور ساری امت کی ماں بنا دیا کہ قیامت تک ساری دنیا ان کو ام المومنین (مومنوں کی ماں) کہہ کر پکارتی رہے گی اور قیامت میں بھی ساری خدائی خدا کے اس فضل و کرم کا تماشا دیکھے گی۔
اے مسلمان عورتو! دیکھو ایمان پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہنے اور خدا پر توکل کرنے کا پھل کتنا میٹھا اور کس قدر لذیذ ہوتا ہے؟ اور یہ تو دنیا میں اجر ملا ہے ابھی آخرت میں ان کو کیا کیا اجر ملے گا؟ اور کیسے کیسے درجات کی بادشاہی ملے گی؟ اس کو خدا کے سوا کوئی نہیں جانتا ہم لوگ تو ان درجوں اور مرتبوں کی بلندی و عظمت کو سوچ بھی نہیں سکتے اﷲ اکبر! اﷲاکبر۔