Brailvi Books

جنتی زیور
490 - 676
دیا اور پنے پاس سے مہر بھی ادا کر دیا اور پھر پورے اعزاز کے ساتھ حضرت شرجیل بن حسنہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے ساتھ مدینہ منورہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس بھیج دیا اور یہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی مقدس بیوی اور تمام مسلمانوں کی ماں بن کر حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے خانہ نبوت میں رہنے لگیں یہ سخاوت و شجاعت دین داری اور امانت و دیانت کے ساتھ بہت ہی قوی ایمان والی تھیں ایک مرتبہ ان کے باپ ابو سفیان جو ابھی کافر تھے مدینہ میں ان کے گھر آئے اور رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے بستر پر بیٹھ گئے حضرت ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے ذرا بھی باپ کی پروا نہیں کی اور باپ کو بستر سے اٹھادیا اور کہا کہ میں ہرگز یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ ایک ناپاک مشرک رسول صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے اس پاک بستر پر بیٹھے اسی طرح ان کے جوش ایمانی اور جذبہ اسلامی کے واقعات عجیب و غریب ہیں جو تاریخوں میں لکھے ہوئے ہیں بہت ہی دین دار اور پاکیزہ عورت تھیں بہت سی حدیثیں بھی یاد تھیں اور انتہائی عبادت گزار اور حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی بے انتہا خدمت گزار اور وفادار بیوی تھیں ۴۴ھ میں مدینہ منورہ کے اندر ان کی وفات ہوئی اور جنت البقیع کے قبر ستان میں دوسری ازواج مطہرات کے خطیرہ میں مدفون ہوئیں۔
(شرح العلامۃ الزرقانی،حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا،ج۴،ص۴۰۳ و مدارج النبوت،ج۲،ص۴۸۱)
تبصرہ:۔اﷲاکبر!حضرت بی بی ام حبیبہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی زندگی کتنی عبرت خیز اور تعجب انگیز ہے سردار مکہ کی شہزادی ہو کر دین کے لئے اپنا وطن چھوڑ کر حبشہ کی دور دراز جگہ میں ہجرت کر کے چلی جاتی ہیں اور پنا ہ گزینوں کی ایک جھونپڑی میں رہنے لگتی ہیں۔ پھر بالکل ناگہاں یہ مصیبت کا پہاڑ ٹوٹ پڑتا ہے کہ شوہر جو پردیس کی زمین میں تنہا ایک سہارا تھا۔ عیسائی ہو کر الگ تھلگ ہوگیا اور کوئی دوسرا سہارا نہ رہ گیا مگر ایسے نازک اور خطرناک وقت
Flag Counter