Brailvi Books

جنتی زیور
480 - 676
 وسلّم کے قلب مبارک میں رچی بسی رہی یہاں تک کہ ان کی وفات کے بعد جب بھی حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے گھر میں کوئی بکری ذبح ہوتی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی سہیلیوں کے یہاں بھی ضرور گوشت بھیجا کرتے تھے اور ہمیشہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم باربار حضرت بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا ذکر فرماتے رہتے تھے ہجرت سے تین برس قبل پینسٹھ برس کی عمر پا کر ماہ رمضان میں مکہ مکرمہ کے اندر انہوں نے وفات پائی اور مکہ مکرمہ کے مشہور قبرستان حجون (جنت المعلی) میں خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کی قبر انور میں اتر کر اپنے مقدس ہاتھوں سے ان کو سپرد خاک فرمایا اس وقت تک نماز جنازہ کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اس لئے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے انکی نماز نہیں پڑھائی حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی وفات سے تین یا پانچ دن پہلے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے چچا ابو طالب کا انتقال ہوگیا تھا ابھی چچا کی وفات کے صدمہ سے حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم گزرے ہی تھے کہ حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوگیا اس سانحہ کا قلب مبارک پر اتنا زبردست صدمہ گزرا کہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے اس سال کا نام ''عام الحزن'' (غم کا سال) رکھ دیا۔

تبصرہ:۔حضرت اُم المومنین بی بی خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی مقدس زندگی سے ماں بہنوں کو سبق حاصل کرنا چاہے کہ انہوں نے کیسے کٹھن اور مشقت کے دور میں حضور اکرم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کر دیا اور سینہ سپر ہو کر تمام مصائب و مشکلات کا مقابلہ کیا اور پہاڑ کی طرح ایمان و عمل صالح پر ثابت قدم رہیں اور مصائب و آلام کے طوفان میں نہایت ہی جاں نثاری کے ساتھ حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی دلجوئی اور تسکین قلب کا سامان کرتی رہیں اور ان کی ان قربانیوں کا دنیا ہی میں ان کو یہ صلہ ملا کہ