Brailvi Books

جنتی زیور
481 - 676
رب العلمین کا سلام ان کے نام لے کر حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوا کرتے تھے اس سے معلوم ہوا کہ مشکلات و پریشانیوں میں اپنے شوہر کی دلجوئیاں اور تسلی دینے کی عادت خدا کے نزدیک محبوب و پسندیدہ خصلت ہے لیکن افسوس کہ اس زمانے میں مسلمان عورتیں اپنے شوہروں کی دلجوئی تو کہاں؟ الٹے اپنے شوہروں کو پریشان کرتی رہتی ہیں کبھی طرح طرح کی فرمائشیں کر کے کبھی جھگڑا تکرار کر کے کبھی غصہ میں منہ پھلا کر۔

    اسلامی بہنو! تمہیں خدا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ اپنے شوہروں کا دل نہ دکھاؤ اوران کو پریشانیوں میں نہ ڈالا کرو بلکہ آڑے وقتوں میں اپنے شوہروں کو تسلی دے کر ان کی دلجوئی کیا کرو۔
(۲)حضرت سودہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا
    یہ ہمارے حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مقدس بیوی اور تمام امت کی ماں ہیں ان کے باپ کا نام ''زمعہ'' اور ماں کانام ''شموس بنت عمرو'' ہے یہ بھی قریش خاندان کی بہت ہی نامور اور معزز عورت ہیں یہ پہلے اپنے چچا زاد بھائی ''سکران بن عمرو'' سے بیاہی گئی تھیں اور اسلام کی شروعات ہی میں یہ دونوں میاں بیوی مسلمان ہوگئے تھے لیکن جب حبشہ سے واپس ہو کر دونوں میاں بیوی مکہ مکرمہ میں آکر رہنے لگے تو ان کے شوہر کا انتقال ہوگیا اور حضور اکرم صلي اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم بھی حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد رات دن مغموم رہا کرتے تھے یہ دیکھ کر حضرت خولہ بنت حکیم رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے بارگاہ رسالت صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم میں یہ درخواست پیش کی کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! حضرت سودہ بنت زمعہ سے نکاح فرمالیں تاکہ آپ کا خانہ معیشت آباد ہو جائے حضرت سودہ بہت ہی دین دار اور سلیقہ شعار خاتون ہیں اور بے حد خدمت گزار بھی ہیں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے حضرت خولہ کے اس مخلصانہ مشورہ کو قبول فرما لیا چنانچہ حضرت خولہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا نے
Flag Counter