Brailvi Books

جنتی زیور
479 - 676
کی نبوت پر یہی ایمان لائیں اور ابتداءِ اسلام میں جب کہ ہر طرف آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کی مخالفت کا طوفان اٹھا ہوا تھا ایسے خوف ناک اور کٹھن وقت میں صرف ایک حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہاکی ہی ذات تھی جو پروانوں کی طرح حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم پر قربان ہورہی تھیں اور اتنے خطرناک اوقات میں جس استقلال و استقامت کے ساتھ انہوں نے خطرات و مصائب کا مقابلہ کیا اس خصوصیت میں تمام ازواج مطہرات پر ان کو ایک ممتاز فضیلت حاصل ہے۔

    ان کے فضائل میں بہت سی حدیثیں بھی آئی ہیں چنانچہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا کہ تمام دنیا کی عورتوں میں سب سے زیادہ اچھی اور باکمال چار بیبیاں ہیں ایک حضرت مریم دوسری آسیہ فرعون کی بیوی تیسری حضرت خدیجہ چوتھی حضرت فاطمہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہن۔

     ایک مرتبہ حضرت جبرئیل علیہ السلام دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم) یہ خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا ہیں جو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پاس ایک برتن میں کھانا لے کر آرہی ہیں جب یہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے پاس آجائیں تو ان سے ان کے رب عزوجل کا اور میرا سلام کہہ دیجئے اور ان کو یہ خوشخبری سنا دیجئے کہ جنت میں ان کے لئے موتی کا ایک گھر بنا ہے جس میں نہ کوئی شور ہوگا نہ کوئی تکلیف ہوگی۔
(صحیح البخاری،کتاب مناقب الانصار،باب تزویج النبی صلی اللہ علیہ وسلم خدیجۃ،رقم ۳۸۲۰،ج۲،ص۵۶۵)
    سرکار دو جہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ان کی وفات کے بعد بہت سی عورتوں سے نکاح فرمایا لیکن حضرت خدیجہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہا کی محبت آخرِ عمر تک حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ
Flag Counter