پانی استعمال کرنے کے بعد ثواب ملے گا اسی طرح اگرچہ غریب مسکین کو کھانا دینے کے بعد ثواب ملے گا لیکن اس ثواب کو پہلے ہی بخش دینا جائز ہے۔
(۶)کسی چیز پر میت کا نام آنے سے وہ چیز حرام نہ ہوگی مثلاً غوث پاک کا بکرا یا غازی میاں کا مرغا کہنے سے بکرا یا مرغا حرام نہیں ہو سکتا کیونکہ حضرت سعد صحابی نے اس کنوئیں کو اپنی مرحومہ ماں کے نام سے منسوب کیا تھا جو آج تک بئر ام سعد ہی کے نام سے مشہور ہے اور دور صحابہ سے آج تک مسلمان اس کا پانی پیتے رہے ہیں اور کوئی بھی اس کا قائل نہیں کہ ام سعد کا نام بول دینے سے کنوئیں کا پانی حرام ہو گیا۔
بہر حال اس بات پر چاروں اماموں کا اتفاق ہے کہ ایصال ثواب یعنی زندوں کی طرف سے مردوں کو ثواب پہنچانا جائز ہے اب رہیں تخصیصات کہ تیسرے دن ثواب پہنچانا'چالیسویں دن ثواب پہنچانا۔ تو یہ تخصیصات اور دنوں کی خصوصیات نہ تو شرعی تخصیصات ہیں نہ کوئی بھی ان کو شرعی سمجھتا ہے کیونکہ کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ اسی دن ثواب پہنچے گا بلکہ یہ تخصیصات محض عرفی اور رواجی بات ہے جو لوگوں نے اپنی سہولت کے لئے مقرر کر رکھی ہے ورنہ سب جانتے ہیں کہ انتقال کے بعد ہی سے تلاوت قرآن مجید اور صدقات و خیرات کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور اکثر لوگوں کے یہاں بہت دنوں تک یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ان سب باتوں کے ہوتے ہوئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ سنی لوگ تیسرے دن اور چالیسویں دن کے سوا دوسرے دنوں میں ایصال ثواب کو ناجائز مانتے ہیں یہ بہت بڑا افتراء اور شرمناک تہمت ہے جو مخالفین کی طرف سے ہم سنی مسلمانوں پر لگانے کی کوشش کی جارہی ہے اور خواہ مخواہ تیجہ اور چالیسویں کو حرام کہہ کر مردوں کو ثواب سے محروم کیا جارہا ہے بہر حال جب ہم یہ قاعدہ کلیہ بیان کر چکے ہیں کہ ایصال ثواب اور فاتحہ جائز