Brailvi Books

جنتی زیور
474 - 676
ہے تو ایصال ثواب کے تمام جزئیات کے احکام اسی قاعدہ کلیہ سے معلوم ہو گئے مثلاً۔

تیجہ کی فاتحہ:۔مرنے سے تیسرے دن بعد قرآن خوانی اور کلمہ طیبہ پڑھا جاتا ہے اور کچھ بتاشے یا چنے یا مٹھائیاں تقسیم کی جاتی ہیں اور ان کا ثواب میت کی روح کو پہنچایا جاتا ہے چونکہ یہ ایصال ثواب کا ایک طریقہ ہے اس لئے جائز اور بہتر ہے لہٰذا اس کو کرنا چاہے۔

چالیسویں اور برسی کی فاتحہ:۔مرنے کے چالیسویں دن بعد ہی کچھ کھانا پکوا کر فقراء و مساکین کو کھلایا جاتا ہے اور قرآن خوانی بھی کی جاتی ہے اور اس کا ثواب میت کی روح کو پہنچایا جاتا ہے اسی طرح ایک برس پورا ہو جانے کے بعد بھی کھانوں اور تلاوت وغیرہ کا ایصال ثواب کیا جاتا ہے یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں لہٰذا ان کو کرتے رہنا چاہے۔

شب برأ ت کی فاتحہ:۔شب برأ ت میں حلوہ پکایا جاتا ہے اور اس پر فاتحہ دلائی جاتی ہے حلوہ پکانا بھی جائز ہے اور اس پر فاتحہ دلانا ایصال ثواب میں داخل ہے لہٰذا یہ بھی جائز ہے۔

کونڈوں کی فاتحہ:۔رجب کے مہینے میں چاول یا کھیر پکا کر کونڈوں میں رکھتے ہیں اور حضرت جلال الدین بخاری رحمہ اﷲ کی فاتحہ دلاتے ہیں اسی طرح ماہ رجب میں حضرت امام جعفر صادق رحمہ اﷲ کو ایصال ثواب کرنے کے لئے پوریوں کے کونڈے بھرے جاتے ہیں یہ سب جائز اور ثواب کے کام ہیں مگر کونڈوں کی فاتحہ میں جاہلوں کا یہ فعل مذموم اور نری جہالت ہے کہ جہاں کونڈوں کی فاتحہ ہوتی ہے وہیں کھلاتے ہیں وہاں سے ہٹنے نہیں دیتے یہ پابندی غلط اور بے جا ہے مگر یہ جاہلوں کا طریقہ عمل ہے پڑھے لکھے لوگوں میں یہ پابندی