Brailvi Books

جنتی زیور
472 - 676
اس کا فائدہ اور ثواب پہنچتا ہے اسی پر علماء کا اتفاق ہے''
(شرح صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب وصول ثواب الصدقۃ۔۔۔الخ،ج۱،ص۳۲۴)
    اس کے علاوہ ان حدیثوں سے مندرجہ ذیل مسائل بھی نہایت ہی واضح طور پر ثابت ہوتے ہیں۔

(۱)میت کے ایصال ثواب کے لئے پانی بہترین صدقہ ہے کہ کنواں کھدوا کر یا نل لگوا کر یا سبیل لگا کر اس کا ثواب میت کو بخشا جائے۔

(۲)میت کو کسی کار خیر کا ثواب بخشنا بہتر اور اچھا کام ہے چنانچہ تفسیر عزیزی پارہ عم ص۱۱۳ پر ہے کہ۔

    ''مردہ ایک ڈوبنے والے کی طرح کسی فریاد رس کے انتظار میں رہتا ہے ایسے وقت میں صدقات اور دعائیں اور فاتحہ اس کے بہت کام آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ لوگ ایک سال تک خصوصاً موت کے بعد ایک چلہ تک میت کو اس قسم کی امداد پہنچانے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیں''۔

(۳)ثواب بخشنے کے الفاظ زبان سے ادا کرنا صحابہ علیھم الرضوان کی سنت ہے۔

(۴)کھانا شیرینی وغیرہ سامنے رکھ کر فاتحہ دینا جائز ہے اس لئے کہ حضرت سعد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اشارہ قریب کا لفظ استعمال کرتے ہوئے فرمایا
ھذہ لام سعد
یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے یعنی اے اﷲعزوجل! اس کنوئیں کے پانی کا ثواب میری ماں کو عطا فرما اس سے معلوم ہوا کہ کنواں ان کے سامنے تھا۔

(۵)غریب'مسکین کو کھانا وغیرہ دینے سے پہلے بھی فاتحہ کرنا جائز ہے جیسا کہ حضرت سعد نے کیا کہ کنواں تیار ہونے کے ساتھ ہی انہوں نے ثواب بخش دیا حالانکہ لوگوں کے
Flag Counter