Brailvi Books

جنتی زیور
471 - 676
ایصال ثواب
    یعنی قرآن مجید کی تلاوت یا کلمہ شریف یا نفلی نمازوں یا کسی بھی بدنی یا مالی عبادتوں کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچانا یہ جائز ہے اسی کو عام طور پر لوگ فاتحہ دینا اور فاتحہ دلانا کہتے ہیں زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے فقہ اور عقائد کی کتابوں مثلاً ہدایہ و شرح عقائد نسفیہ میں اس کا بیان موجود ہے اس کو بدعت اور ناجائز کہنا جہالت اور ہٹ دھرمی ہے حدیث سے بھی اس کا جائز ہونا ثابت ہے چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوگیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میری ماں کا انتقال ہوگیا ان کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا پانی (بہترین صدقہ ہے تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فرمانے کے مطابق) حضرت سعد رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے کنواں کھدوا دیا (اور اسے اپنی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے) کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے (یعنی اس کا ثواب اس کی روح کو ملے)
(مشکوۃ المصابیح،کتاب الزکاۃ،باب فضل الصدقۃ،الفصل الثانی،رقم۱۹۱۲،ج۱،ص۵۲۷)
     اسی طرح ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یارسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میری ماں کا اچانک انتقال ہو گیا اور وہ کسی بات کی وصیت نہ کر سکی میرا گمان ہے کہ وہ انتقال کے وقت کچھ بول سکتی تو صدقہ ضرور دیتی تو اگر میں اس کی طرف سے صدقہ کر دوں تو کیا اس کی روح کو ثواب پہنچے گا؟ توآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے ارشاد فرمایا کہ ہاں پہنچے گا۔
(صحیح مسلم،کتاب الزکاۃ،باب وصول ثواب الصدقۃ۔۔۔الخ،رقم۱۰۰۴،ص۵۰۲)
    علامہ نووی رحمۃ اﷲ علیہ نے اس حدیث کی شرح میں ارشاد فرمایا کہ۔

    ''اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اگر میت کی طرف سے صدقہ دیا جائے تو میت کو
Flag Counter