یعنی قرآن مجید کی تلاوت یا کلمہ شریف یا نفلی نمازوں یا کسی بھی بدنی یا مالی عبادتوں کا ثواب کسی دوسرے کو پہنچانا یہ جائز ہے اسی کو عام طور پر لوگ فاتحہ دینا اور فاتحہ دلانا کہتے ہیں زندوں کے ایصال ثواب سے مردوں کو فائدہ پہنچتا ہے فقہ اور عقائد کی کتابوں مثلاً ہدایہ و شرح عقائد نسفیہ میں اس کا بیان موجود ہے اس کو بدعت اور ناجائز کہنا جہالت اور ہٹ دھرمی ہے حدیث سے بھی اس کا جائز ہونا ثابت ہے چنانچہ حضرت سعد بن عبادہ صحابی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کی والدہ کا جب انتقال ہوگیا تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اﷲصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم! میری ماں کا انتقال ہوگیا ان کے لئے کون سا صدقہ افضل ہے؟ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم نے فرمایا پانی (بہترین صدقہ ہے تو حضورصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم کے فرمانے کے مطابق) حضرت سعد رضی اﷲتعالیٰ عنہ نے کنواں کھدوا دیا (اور اسے اپنی ماں کی طرف منسوب کرتے ہوئے) کہا یہ کنواں سعد کی ماں کے لئے ہے (یعنی اس کا ثواب اس کی روح کو ملے)