Brailvi Books

جنتی زیور
470 - 676
علیہ واٰلہٖ وسلّم کا بیان ہوا کرتا ہے میلاد شریف کی طرح یہ جلسے بھی بہت مبارک اور خیر و برکت والے ہیں اور اہل جلسہ حاضرین سب ثواب پاتے ہیں۔

حلقہ ذکر:۔صوفیائے کرام' اہل طریقت جمع ہو کر اور حلقہ بنا کر کلمہ طیبہ پڑھتے اور اﷲعزوجل کا ذکر کرتے ہیں پھر شجرہ شریفہ پڑھ کر پیران کبار کو ایصال ثواب کرتے ہیں ان حلقوں کی فضیلت اور عظمت کا کیا کہنا؟ ان ذکر کے حلقوں کو حدیث میں ''جنت کا باغ'' کہا گیا ہے۔

    اسی طرح دوسرے صحابہ کرام علیھم الرضوان اور اولیاء عظام علیہ رحمۃ الرحمن کے تذکروں کی مجلسیں منعقد کرنا بھی جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ ان سب جلسوں میں روایات صحیح بیان کی جائیں غیر ذمہ دار لوگوں سے نہ وعظ کہلایا جائے نہ غلط روایتوں کو بیان کیا جائے ورنہ ثواب کی جگہ عذاب کے سوا اور کچھ نہ ملے گا۔

عرس بزرگان دین:۔بزرگان دین و علماء صالحین کے وصال کی تاریخوں میں ان کے مزاروں پر حاضرین کا اجتماع جسمیں قرآن مجید کی تلاوت اور میلاد شریف نعت خوانی اور وعظ ہوتا ہے اور ان بزرگ کے حالات زندگی بیان کئے جاتے ہیں پھر فاتحہ و ایصال ثواب کیا جاتا ہے یہ جائز ہے رسول اﷲ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم بھی ہر سال کے اول یا آخر میں شہداء احد کے مزاروں کی زیارت کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے ہاں یہ ضرور ہے کہ عرسوں کو زمانہ حال کے خرافات ولغویات چیزوں سے پاک رکھا جائے جاہلوں کو ناجائز کاموں سے منع کیا جائے منع کرنے سے بھی اگر وہ باز نہ آئیں تو ان ناجائز کاموں کا گناہ ان کے سر پر ہوگا ان لغویات و خرافات کی وجہ سے عرس کو حرام نہیں کہا جاسکتا ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو مکھی کو اڑا دینا چاہے ناک کاٹ کر نہیں پھینک دی جائے گی۔