(۶)اگر کسی خطا پر کوئی ٹوکے تو اپنی بات کی پچ کر کے اس پر اڑا نہ رہے بلکہ فوراً ہی خوش
دلی سے اپنی غلطی کو تسلیم کرے اور توبہ کرے۔
(۷)بغیر سخت ضرورت کے سفر نہ کرے کیونکہ سفر میں بہت سی بے احتیاطی ہوتی ہے اور بہت سے دینی کاموں اور وظیفوں یہاں تک کہ نماز میں خلل پیدا ہو جایا کرتا ہے۔
(۸)کسی سے جھگڑا تکرار نہ کرے۔
(۹)بہت زیادہ اور قہقہہ لگا کر نہ ہنسے۔
(۱۰)ہر بات اور ہر کام میں شریعت اور سنت کی پابندی کا خیال رکھے۔
(۱۱)زیادہ وقت تنہائی میں رہے اگر لوگوں سے ملنا جلنا پڑے تو لوگوں سے عاجزی
اور انکساری کے ساتھ ملے سب کی خدمت کرے اور ہر گز ہر گز اپنے کسی قول و
فعل سے اپنی بڑائی نہ جتائے۔
(۱۲)امیروں کی صحبت میں بہت کم بیٹھے۔
(۱۳)بددینوں اور بد فعلوں سے بہت دور بھاگے۔
(۱۴)دوسروں کا عیب نہ ڈھونڈے بلکہ اپنے عیبوں پر نظر رکھے اور اپنی اصلاح کی
کوشش میں لگا رہے۔
(۱۵)نمازوں کو اچھی طرح اچھے وقت میں پابندی کے ساتھ دل لگا کر پڑھے۔
(۱۶)جو کچھ نقصان یا رنج و غم پیش آئے اس کو اﷲعزوجل کی طرف سے جانے اور اس
پر صبر کرے او ریہ سمجھے کہ اس پر خداوند تعالیٰ کی طرف سے ثواب ملے گا اور اگر
کوئی فائدہ حاصل ہو یا کوئی خوشی حاصل ہو تو اس پر خدا کا شکر ادا کرے اور یہ دعا
مانگے کہ اﷲ تعالیٰ اس نفع اور خوشی کو میرے حق میں بہتر بنائے۔