Brailvi Books

جنتی زیور
464 - 676
تسلی دیتا رہے کہ۔
اس کے الطاف تو ہیں عام شہیدی سب پر

تجھ سے کیا ضد تھی اگر تو کسی قابل ہوتا
(۱)ہر مرید کو لازم ہے کہ دوسرے بزرگوں یا دوسرے سلسلہ کی شان میں ہرگز ہرگز کبھی کوئی گستاخی اور بے ادبی نہ کرے نہ کسی دوسرے پیر کے مریدوں کے سامنے کبھی یہ کہے کہ میرا پیر تمہارے پیر سے اچھا ہے یا ہمارا سلسلہ تمہارے سلسلہ سے بہتر ہے نہ یہ کہے کہ ہمارے پیر کے مرید تمہارے پیر سے زیادہ ہیں یا ہمارے پیر کا خاندان تمہارے پیر کے خاندان سے بڑھ چڑھ کر ہے کیونکہ اس قسم کی فضول باتوں سے دل میں اندھیرا پیدا ہوتا ہے اور فخر و غرو رکا شیطان سر پر سوار ہو کر مرید کو جہنم کے گڑھے میں گرا دیتا ہے اور پیروں و مریدوں کے درمیان نفاق و شقاق' پارٹی بندی اور قسم قسم کے جھگڑوں کا اور فتنہ و فساد کا بازار گرم ہو جاتا ہے۔
مرید کو کس طرح رہنا چاہے؟
(۱)ضرورت کے مطابق دین کا علم حاصل کرتا رہے خواہ کتابیں پڑھ کر یا عالموں سے 

پوچھ پوچھ کر۔

(۲)سب گناہوں سے بچتا رہے۔

(۳)اگر کبھی کوئی گناہ ہو جائے تو فوراً دل میں شرمندہ ہو کر خدا سے توبہ کرے۔

(۴)کسی کو اپنے ہاتھ یا زبان سے تکلیف نہ دے نہ کسی کا کوئی حق مارے۔

(۵)مال کی محبت اور عزت و شہرت کی تمنا دل میں نہ رکھے نہ اچھے کھانے اور اچھے 

کپڑے کی فکر کرے بلکہ وقت پر جو کچھ مل جائے اس پر صبر و شکر کرے۔
Flag Counter