Brailvi Books

جنتی زیور
463 - 676
ہے اور وہ جو کچھ تعجب خیز چیزیں دکھلا رہے ہیں وہ ہر گز ہرگز کرامت نہیں بلکہ جادو یا نظر بندی کا عمل یا شیطان کا دھوکا ہے۔ (دیکھو ہماری کتاب معمولات الابرار)

(۷)اگر پیر کے بتائے ہوئے وظیفوں سے دل میں کچھ روشنی یا اچھی حالت پیدا ہو یا اچھے اچھے خواب نظر آئیں یا خواب و بیداری میں بزرگوں کا دیدار اور ان کی زیارت ہونے لگے یا نماز اور وظیفہ میں کوئی چمک پید اہو یا کوئی خاص کیفیت یا لذت محسوس ہو تو خبردار! خبردار ان باتوں کا اپنے پیر کے سوا کسی دوسرے سے ذکر نہ کرے نہ اپنے وظیفوں اور عبادتوں کا پیر کے علاوہ کسی کے سامنے اظہار کرے کیونکہ ظاہرکر دینے سے یہ ملی ہوئی روحانی دولت چلی جاتی ہے اور پھر مرید عمر بھر ہاتھ ملتا رہ جائے گا۔

(۸)اگر پیر کے بتائے ہوئے وظیفہ یا ذکر کا کچھ مدت تک کوئی اثر یا کیفیت نہ ظاہر ہو تو اس سے تنگ دل اور پیر سے بدظن نہ ہو اور اس کو اپنی خامی یاکوتاہی سمجھے اور یوں سمجھے کہ بڑا اثر یہی ہے کہ مجھے اﷲعزوجل کا نام لینے کی توفیق ہو رہی ہے ہر مرید میں پیدائشی طور پر الگ الگ صلاحیت ہوا کرتی ہے ایک ہی وظیفہ اور ایک ہی ذکر سے کسی میں کوئی اثر پیدا ہوتا ہے اور کسی میں کوئی دوسری کیفیت پیدا ہوتی ہے کسی میں جلد اثر ظاہر ہوتا ہے کسی میں بہت دیر کے بعد اثرات ظاہر ہوتے ہیں جس میں جیسی اور جتنی صلاحیت ہوتی ہے اسی لحاظ سے وظیفوں اور ذکر کی کیفیات پیدا ہوتی ہیں یہ ضروری نہیں کہ ہرمرید کا حال یکساں ہی ہو بہر حال اگر وظیفہ و ذکر سے کچھ کیفیات پیدا ہوں تو خدا کا شکر ادا کرے اور اگر کچھ اثرات نہ ہوں یا کم ہوں یا اثرات ہوکر کم ہو جائیں یا بالکل اثرات و کیفیات زائل ہو جائیں تو ہرگز ہرگز پیر سے بد اعتقاد ہو کر ذکر اور وظیفہ کو نہ چھوڑے بلکہ برابر پڑھتا رہے اور پیر کا ادب و احترام بدستور رکھے اور ذرا بھی تنگ دل نہ ہو اور یہ سوچ سوچ کر صبر کرے اور اپنے دل کو