Brailvi Books

جنتی زیور
460 - 676
    ''یعنی اے رسولو! حلال چیزوں کو کھاؤ اور اچھے عمل کرو''۔

    اور مومنین سے فرمایا کہ۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰکُمْ
یعنی اے ایمان والو! جو کچھ ہم نے تم کو دیا اس میں سے حلال چیزوں کو کھاؤ۔(پ2،البقرۃ:172)

اس کے بعد پھر حضور علیہ الصلوۃ و السلام نے فرمایا کہ ایک شخص لمبے لمبے سفر کرتا ہے جس کے بال پر اگندہ اور بدن گرد آلود ہے (یعنی اس کی حالت ایسی ہے کہ جو دعا مانگے وہ قبول ہو) وہ آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر یارب یارب کہتا ہے (دعا مانگتا ہے) مگر اس کی حالت یہ ہے کہ اس کا کھانا حرام اس کا پینا حرام ا س کالباس حرام اور غذا حرام ہے پھر اس کی دعا کیونکر مقبول ہو (یعنی اگر دعا مقبول ہونے کی خواہش ہو تو حلال روزی اختیار کرو کہ بغیر اس کے دعا قبول ہونے کے تمام اسباب بیکار ہیں)
 (مشکوۃالمصابیح،کتاب البیوع،باب الکسب وطلب الحلال،رقم۲۷۶۰،ج۲،ص۱۲۹)
حدیث:۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ حلال کمائی کی تلاش بھی فرائض کے بعد ایک فریضہ ہے۔
 (شعب الایمان،باب فی حقوق الاولاد ولأھلین،رقم۸۷۴۱،ج۶،ص۴۲۰)
حدیث:۔حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلّم كا ارشاد ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ آدمی پرواہ نہیں کریگا کہ اس مال کو کہاں سے حاصل کیا ہے حلال سے یا حرام سے؟
 (صحیح البخاری،کتاب البیوع،باب من لم یبال من ۔۔۔الخ،رقم۲۰۵۹،ج۲،ص۷)
حدیث:۔حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جو بندہ حرام مال حاصل کرتا ہے اور اس کو صدقہ کرے تو مقبول نہیں اور خرچ کرے تو اس کے لئے اس میں برکت نہیں اور اپنے بعد چھوڑ کر مرے تو جہنم میں جانے کا سامان ہے (یعنی مال کی تین حالتیں ہیں اور
Flag Counter